تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 163 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 163

تاریخ احمدیت۔جلد 28 163 سال 1972ء ٹورنامنٹ منعقد ہوا۔جس کا پس منظر یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو گھوڑوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے کی خصوصی تاکید فرمائی ہے حتی کہ حضور کا ارشاد مبارک ہے الْخَيْلُ مَعْقُوْدَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ “ (بخارى كتاب الجهاد باب الْخَيْلُ مَعْقُوْدْ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( کہ گھوڑوں کی پیشانیوں سے تا قیامت خیر و برکت وابستہ رہے گی۔اس ارشاد نبوی کی تعمیل میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے اپنے عہد میں ذی استطاعت احباب کو گھوڑے کی سواری سیکھنے اور اچھی نسل کے پالنے کی خصوصی تحریک فرمائی۔اس سلسلہ میں اخبار ”الفضل میں گھوڑوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی اشاعت خاص کا انتظام کیا گیا ( حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کی ہدایت پر مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے متعدد نوٹ لکھے تھے جو الفضل کی متعدد اشاعتوں میں محفوظ ہوئے ) اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے اس ٹورنامنٹ کا آغاز کیا گیا۔اس پہلے دو روزہ ٹورنامنٹ میں ضلع جھنگ، ضلع سرگودھا اور ربوہ کے چالیس گھوڑے شریک ہوئے۔166 افتتاحی پروگرام حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی ہدایت پر صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا اور اپنے خطاب میں بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے گھوڑے تو رکھے جاتے تھے لیکن ان کی طرف صحیح رنگ میں توجہ نہ دی جاتی تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو توجہ دلائی جس کے بعد مسلمانوں میں گھوڑے کو بھی ایک مقام ملا اور بہتر قسم کے عربی گھوڑوں کی نسل کی قسمیں پیدا کی گئیں جو کہ جنگ اور سواری کے لئے استعمال ہو سکتی تھیں۔چنانچہ اس چیز کا اعتراف انگریز قوم آج بھی کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی عربی نسل کو دنیا میں ممتاز کرنے کے لئے باقاعدہ طور پر کوشش فرمائی۔گھوڑے کی اہمیت مسلمانوں کے لئے اس سے زیادہ اور کیا ہوگی کہ بخاری میں حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت کے دن تک (مسلمانوں کے لئے ) خیر و برکت رکھی گئی ہے۔اجر بھی اور غنیمت بھی۔آجکل ہم لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ گھوڑا اب پرانے زمانہ کی بات ہو گئی۔موٹر، موٹر سائیکل نکل آئے اس کو ہم کیوں رکھیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا کہ قیامت تک کے لئے خیر و برکت ہے اس لئے تمام احمد یوں کو جو کہ اس بات کی استطاعت رکھتے ہوں اس حدیث کو مدنظر رکھنا چاہیے۔