تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 160 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 160

تاریخ احمدیت۔جلد 28 160 سال 1972ء آیت میں ان کے علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرما یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں دکھ اور تکلیف پہنچے گی۔مگر تمہارا یہ کام ہے کہ تم اپنے اندروہن ، ضعف اور استکانت پیدا نہ ہونے دو۔میں سمجھتا ہوں یہ آیت ایک لحاظ سے ہمارے لئے خوشخبری کا باعث بھی ہے کہ ہمیں مالی نقصان بھی پہنچایا جائے گا۔جذباتی اور روحانی نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی جائے گی لیکن یہ نقصان ہمیں اس لئے نہیں پہنچایا جائے گا کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے ہمیں مارنے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ ہمیں زندہ رکھنے اور ہمارے ذریعہ دوسروں کو زندہ کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔161 ربوہ کو جنت نظیر بنانے کی خواہش اور عزم کا اظہار ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں پیارے امام حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مرکز احمدیت ربوہ کو جنت نظیر بنانے کی دلی تمنا اور عزم کا بھی اظہار کیا۔چنانچہ آپ نے ربوہ کے مکینوں کو ربوہ میں شجر کاری اور ربوہ کے درختوں کی حفاظت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔ربوہ کے ہر مکین کا یہ فرض ہے کہ اسے جہاں بھی نظر آئے کہ کوئی شخص درخت کاٹ رہا ہے تو وہ اس کے پاس چلا جائے اور اسے درخت کاٹنے سے روک دے۔یہ توتھی وہ ذمہ داری جو ان درختوں کی حفاظت کے لئے ہے جو پہلے سے موجود ہیں جو نئے درخت لگائے جائیں گے ان کی حفاظت کی ذمہ داری اطفال الاحمدیہ پر ہے سوائے اس کے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس فیصد درخت مرجاتے ہیں اور بڑھتے نہیں انسانی غلطی یا لا پرواہی کے نتیجہ میں ایک درخت بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔سارے چھوٹے اور بڑے بچے درختوں کی حفاظت کے لئے ذمہ دار ہیں۔مجلس صحت کو چاہیے کہ ان کی ٹولیاں بنا کر ہر ٹولی کے ذمہ لگائیں کہ مثلاً انہوں نے فلاں جگہ کے اتنے درختوں کی حفاظت کرنی ہے۔۔۔غرض درختوں کے بے شمار فوائد ہیں یہ انسان کے ہزاروں کام آتے ہیں اس لئے نئے اور پرانے درختوں کی حفاظت از بس ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سایہ دار اور پھلدار درختوں کے کاٹنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ قرآن کریم نے بھی اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ ایک موقع پر جنگ کے دوران انسان کی جان کی حفاظت کے لئے نہیں