تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 7 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 7

تاریخ احمدیت۔جلد 28 7 سال 1972ء عورت کا واقعہ بیان فرمایا جسے سل کا عارضہ ہو گیا تھا اور ڈاکٹروں کے مشورہ کے مطابق اسے ایک ایسی جگہ بھجوایا گیا تھا جہاں ناخواندگی کا یہ عالم تھا کہ سارے علاقے میں صرف ایک آدمی پڑھا ہوا تھا۔وہ عورت پڑھی لکھی تھی اس نے بحالی صحت کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے سر بر آوردہ لوگوں کے مشورہ سے آبادی کے ایک حصے کو پڑھانا شروع کر دیا۔ساتھ ہی وہ اپنے طلباء کو یہ باور کراتی رہی کہ وہ آگے چل کر اپنے اس علاقے کے ناخواندہ افراد کی پڑھائی اور بہتری کا انتظام کریں گے۔چنانچہ ان میں سے جولڑ کا زیادہ ہوشیار اور محنتی تھا اسے یونیورسٹی اور پھر ڈاکٹری کی تعلیم دلوائی گئی۔اس نے اپنی اس معلمہ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ایک لاکھ ڈالر سالانہ کی ملازمت کی پیشکش کو رد کر دیا اور اپنے گاؤں میں آ گیا اور لوگوں کے علاج معالجہ کے لئے اپنے آپ کو شب و روز کے لئے وقف کر دیا۔فرمایا یہ وہ اصل راہ ہے جس پر چل کر اور یہ وہ اصل طریقہ ہے جس کو اپنا کر قوموں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔زیر تعمیر جماعتی عمارات کا معاینہ ۱۹ جنوری کو حضور قبل از دو پہر مسجد احمد یہ اسلام آباد اور صدر انجمن احمدیہ کی زیر تعمیر عمارتوں کے دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے قریباً ایک گھنٹے تک ان ہر دو عمارتوں کے کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا اور کارکنان کو ضروری ہدایات سے نوازا۔رات کو کوٹھی پر ہی آپ نے اپنی آنکھوں کا معاینہ کروایا۔ڈاکٹر نسیم احمد صاحب اور ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب نے معا ینہ کیا۔اس موقع پر کرنل ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب بھی موجود تھے۔ربوہ کے لئے روانگی ۲۰ جنوری کو صبح سے بوندا باندی شروع ہو گئی۔حضور مع قافلہ گیارہ بجے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔مقامی جماعت نے کثیر تعداد میں اپنے امیر جماعت جناب چوہدری عبدالحق صاحب ورک کی معیت میں حضور کو الوداع کہنے کی سعادت حاصل کی۔جہلم پہنچنے پر حضور نے تھوڑی دیر کے لئے مرزا امنیر احمد صاحب کے ہاں پاکستان چپ بورڈ فیکٹری میں قیام کیا۔قیام کے دوران دو پہر کا کھانا تناول فرمایا۔یہاں سے روانہ ہو کر سرائے عالمگیر سے نہر کی پٹڑی پر سے ہوتے ہوئے براستہ سرگودھا سات بجے حضور مع قافلہ بخیر و عافیت ربوہ واپس تشریف فرما ہوئے۔4 دوسرا سفر : ( ۸ فروری تا ۱۵ فروری ۱۹۷۲ ء ) اس سفر میں بھی حضور انور حسب معمول ربوہ سے