تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد 28 158 کا کول کے قریب ۱۲۰ گھروں پر مشتمل کالونی کو نذرآتش کر دیا گیا سال 1972ء راولپنڈی ۱/۲۷ اکتوبر (اسٹاف رپورٹر) مرکزی وزیر داخلہ خان عبد القیوم نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں امن و امان کی حالت انتہائی خراب ہے کسی کی جان و مال و عزت محفوظ نہیں ابھی حال میں کا کول کے نزدیک خاص فرقے کے لوگوں پر مشتمل ۱۲۰ گھروں کی کالونی کو نذرآتش کر دیا گیا۔یہ انتہائی شرمناک فعل ہے“۔159 وو اخبار ” نوائے وقت راولپنڈی (مورخہ ۲۸ /اکتوبر ۱۹۷۲ء) نے لکھا:۔راولپنڈی ۱/۲۷ اکتوبر (نامہ نگار خصوصی) مرکزی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم نے انکشاف کیا ہے کہ کاکول ( ایبٹ آباد) کے قریب ایک فرقے کے پورے گاؤں کو نذرآتش کر دیا گیا ہے۔جس کی اطلاع سرحد حکومت نے پریس کو نہیں دی انہوں نے کہا کہ اس آتشزدگی سے تقریباً ۱۲۰ مکان جل کر راکھ ہو گئے اور کئی افراد زخمی ہوئے۔عبدالقیوم خان نے یہ بات صوبہ سرحد میں بگڑتے ہوئے امن عامہ ولا قانونیت کا ذکر کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ تمام مفرور ملزمان وا پس مختلف شہروں خصوصاً نوشہرہ، پشاور پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل پشاور کے بازار میں تین افراد نے ایک غریب آدمی کو روک دیا اور اس کی جیب سے نو آنے نکال کر بھاگ گئے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک مرکزی وزارت داخلہ کا تعلق ہے تو سارے ملک میں اس کی طرف سے صرف ایک شخص کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ صوبہ سرحد میں سینکڑوں افراد کو امن عامہ کے قوانین کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے۔ان حالات میں وہاں برسر اقتدار حکومتوں کا جمہوریت کا نعرہ بھی مضحکہ خیز 66 ہے۔160 النبی جماعتوں کی تاریخ اور جماعت احمدیہ کے لئے قرآنی لائحہ عمل اس آتشیں ماحول میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احمدیوں کی ایسی کامیاب راہنمائی فرمائی کہ وہ روحانی بشاشت، شوق عمل اور جذبہ ایثار کا حقیقی نمونہ بن گئے اور باطل طاقتیں ان میں ذرہ بھر ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کرنے میں یکسر ناکام و نامراد ر ہیں۔اس سلسلہ میں حضور نے ۱۰ نومبر ۱۹۷۲ء کو ایک نہایت ولولہ انگیر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں قرآن کریم کی سورۃ آل عمران، ۱۴۷ - ۱۴۸ - ۱۸۷ اور سورۃ الممتحنہ : ۳ اور تاریخ اسلام کی روشنی میں بڑے شرح وبسط سے بتایا کہ خدائی جماعتوں کے خلاف ہمیشہ ہی زبان اور ایذا رسانی کے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں