تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 5
تاریخ احمدیت۔جلد 28 5 سال 1972ء کی بجائے سونمبر لینے کی صلاحیت رکھی تھی اور ہم یہ سونمبر حاصل کر لیں تو گویا ہم ان سے دو گنا آگے نکل گئے۔ہر احمدی کو محنت کرنی چاہیے اور اپنی جدو جہد کو انتہا تک پہنچانا چاہیے۔ہر فرد کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیت کی شکل میں اسے جو اصلی قوت اور اصلی دولت عطا فرمائی ہے اس سے وہ اپنے دائرہ صلاحیت کے اندر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔اگر آج پاکستان میں بسنے والے احمدی ہی اپنی صلاحیتوں کی نشو نما کو ان کی انتہا تک پہنچادیں تو اسی سے ہمارے اس پیارے ملک کی کایا پلٹ جائے گی۔حالانکہ ہم بہت تھوڑے ہیں لیکن اگر ہم اپنی تھوڑی تعداد کے باوجود بھی اپنی صلاحیتوں کی نشو و نما آخری حد تک پہنچادیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو زیادہ سے زیادہ دولت ہر چہارلحاظ سے کسی کو مل سکتی ہے وہ مل جائے تو پاکستان کی دولت میں اتنا اضافہ ہو جائے گا کہ دنیا کی کوئی اور طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے اسفار اسلام آباد اس سال حضرت خلیفہ المسیح الثالث سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بعض اہم مقاصد کے پیش نظر مع حضرت منصورہ بیگم صاحبہ دو بار اسلام آباد تشریف لے گئے۔پہلا سفر : (۱۷ جنوری تا ۲۰ جنوری ۱۹۷۲ء) حضور انور ۱۷ جنوری صبح نو بجے بذریعہ موٹر کار براسته شیخو پورہ و گوجرانوالہ روانہ ہوئے۔جماعت احمدیہ شیخو پورہ کے بعض احباب اپنے امیر جناب چوہدری محمد انور حسین صاحب کی قیادت میں شیخو پورہ شہر سے باہر حضور کے استقبال کے لئے حاضر تھے۔حضور انور گیارہ بجے کے قریب شیخو پورہ پہنچنے پر چوہدری صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے جہاں بہت سے احمدی احباب اور غیر از جماعت معززین نے حضور کا خیر مقدم کیا۔حضور نے تمام دوستوں کو شرف مصافحہ بخشا اور قریباً ایک گھنٹے تک ان سے مختلف امور پر گفتگو فرماتے رہے۔یہاں سے روانہ ہو کر حضور نے تھوڑی دیر کے لئے جہلم کے قریب پاکستان چپ بورڈ فیکٹری میں صاحبزادہ مرز امنیر احمد صاحب کے ہاں مختصر قیام فرمایا اور چائے پی۔حضور شام چھ بجے اسلام آباد پہنچے اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی کوٹھی میں فروکش ہوئے۔حضور کی تشریف آوری پر مقامی