تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 4 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 4

تاریخ احمدیت۔جلد 28 4 سال 1972ء دائرہ میں جو آخری حد تھی وہاں تک پہنچادیا تھا۔چنانچہ وہ قوم جو شروع میں مٹھی بھر تھی اور جس کا دنیا کی آبادی کے لحاظ سے کوئی شمار تھا اور نہ ان کی کوئی حقیقت تھی، انہوں نے جب کسری سے ٹکر لی اس وقت حضرت خالد بن ولید کے پاس اٹھارہ ہزار فوج تھی۔تھے تو وہ اٹھارہ ہزار مگر وہ ایسے تربیت یافتہ افراد تھے جنہوں نے اپنے دائرہ استعداد کی انتہا کو پالیا تھا (جس کو میں نجات کی معراج کہتا ہوں ) اس لئے انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں اور دنیوی اموال کی کثرت رکھنے والوں کے مقابلے میں اپنی برتری کو ثابت کیا۔۔۔غرض یہ صحابہ رضوان اللہ علیہم ایک ایسی قوم تھی جس میں ہمیں یہ خوبی نظر آتی ہے۔اگر پاکستان کے سارے کے سارے شہری اپنی اپنی استعداد کے دائرہ کے اندر اپنی صلاحیتوں کی نشو ونما کو اپنی انتہا تک پہنچا دیں تو ہمارا ملک دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ہو جائے گا اور دنیا کے حسین ترین ملکوں میں سے بھی ہو جائے گا کیونکہ اخلاقی لحاظ سے بھی ہم ایک ایسی مذہبی جماعت ہیں جس کا اسلام کے ساتھ تعلق ہے۔اس لئے اگر ہماری ذہنی اور ہماری اخلاقی اور ہماری روحانی نشو و نما ہوگی تو مادی نشو و نما کے لحاظ سے اور مادی دولت کے لحاظ سے امریکہ بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔روس بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور چین بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا کیونکہ اگر چہ یہ قو میں دنیوی لحاظ سے بڑی آگے نکل چکی ہیں لیکن میں نے بڑا غور کیا ہے اور بالآخر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ ابھی بحیثیت مجموعی اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک نہیں پہنچے یعنی مادی لحاظ سے بھی ذہنی لحاظ سے بھی ، اخلاقی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی اپنی نشوونما کے کمال تک نہیں پہنچے۔اخلاقی اور روحانی لحاظ سے تو وہ بہت ہی پیچھے ہیں لیکن جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بھی اپنے دائرہ استعداد کی انتہا تک نہیں پہنچے۔اگر ان کے مقابلے میں پاکستان بحیثیت مجموعی اپنے دائرہ استعداد کی انتہا کو پہنچ جائے تو وہ ان ملکوں سے آگے نکل جائے گا۔ہم نے اگر سو میں سے دس نمبر لئے اور انہوں (یعنی امریکہ، روس، چین وغیرہ) نے سو میں سے پچاس نمبر لئے تو اس لحاظ سے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہم سے بہت آگے ہیں وہ ہم سے پانچ گنا آگے ہیں لیکن اگر ہمارے اندر اللہ تعالیٰ نے دس