تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 139
تاریخ احمدیت۔جلد 28 139 سال 1972ء ا۔ہدایت سوقیہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ماریشس ( ہدایت سوقیہ صاحبہ شادی کے بعد جرمنی میں قیام پذیر ہوگئیں اور جرمنی کی لجنہ اماءاللہ کی صدارت کے فرائض انجام دینے کا موقعہ ملا ) نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ سب سے پہلے میں لجنہ اماء اللہ ماریشس اور اپنی طرف سے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی خدمت میں خصوصی مبارک باد اور نیک خواہشات کا تحفہ پیش کرتی ہوں۔حضرت مریم صدیقہ صاحبہ کے لئے میرے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے اور نکلتی رہے گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے نیک مقصد میں کامیاب فرمائے۔خدا تعالیٰ آپ کو غیر معمولی استقلال اور عزم وحوصلہ بخشے تا اسلام اور احمدیت کی زیادہ خدمت کر سکیں۔آمین۔اسلام اور احمدیت کی تاریخ کے اوراق میں لجنہ اماءاللہ کے کارنامے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہمیں امید ہے اور ہم یہ دعا کرتی ہیں کہ لجنہ اماءاللہ کے آئندہ پچاس سال پہلے سالوں سے زیادہ درخشندہ اور تابندہ ہوں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب تمام بہنیں خلافت حقہ سے اپنی وابستگی کو اور زیادہ پختہ کر لیں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کریم اور اسلام کے مطابق ڈھال لیں۔136 ۲۔صدر لجنہ اماءاللہ انڈونیشیا۔لجنہ اماءاللہ انڈونیشیا نے تین خواتین پر مشتمل ایک وفد جشنِ پنجاہ سالہ میں شرکت کے لئے بھجوایا تھا جس کی قیادت وہاں کی صدر لجنہ مریم سوچی باقی صاحبہ نے کی۔مریم سوچی باقی ۲۲ / اگست ۱۹۷۱ء سے لجنہ اماء اللہ انڈونیشیا کی صدارت کے عہدہ پر فائز ہوئیں۔نہایت قابل خاتون اور حج تھیں اور اپنے دوسرے فرائض کے ساتھ لجنہ اماءاللہ کی ذمہ داریوں کو احسن طریق سے ادا کر رہی تھیں۔آپ نے اپنی تقریر میں سب سے پہلے لجنہ اماء اللہ انڈونیشیا کی مہرات کی طرف سے جملہ ممبرات مرکز یہ وپاکستان کی خدمت میں پرخلوص سلام پیش کیا بعد ازاں لجنہ اماء اللہ انڈونیشیا کی مختصر تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت لجنہ اماء اللہ انڈونیشیا کی ۳۷ شاخیں ہیں۔۱۹۳۶ء میں لجنہ کی پہلی شاخ جکارتہ میں وجود میں آئی تھی اور باقی زیادہ تر شاخیں ۱۹۵۲ء اور ۱۹۶۰ ء کے درمیانی حصہ میں بنیں اور چند ایک اس کے بعد۔لجنہ اماءاللہ انڈونیشیا کی ایک مرکزی مجلس عاملہ ہے جو لجنہ کی تمام شاخوں کو کنٹرول کرتی ہے اس مجلس عاملہ کی ۹ عہد یدار ہیں۔ممبرات کی تعداد دو ہزار ہے۔انڈونیشیا میں احمدی لڑکیاں جب تک شادی نہیں کرتیں ناصرات کہلاتی ہیں لیکن شادی کے بعد وہ لجنہ اماء اللہ میں شامل ہو جاتی ہیں۔یہ فیصلہ خاص طور پر