تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 136
تاریخ احمدیت۔جلد 28 136 سال 1972ء لئے ہزار ہا میل کا سفر طے کر کے ربوہ تشریف لائیں۔ان میں امریکہ کی ایک، انگلستان کی دو، ڈنمارک کی ایک ، کینیا کی ایک، ماریشس کی دو اور انڈونیشیا کی تین خواتین شامل تھیں۔انہوں نے بھی اجتماع سے خطاب فرمایا۔اجتماع دفتر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے وسیع و عریض احاطہ میں نہایت خوبصورت شامیانوں اور قناتوں سے تیار کردہ پنڈال میں منعقد ہوا جسے سلیقہ اور خوش ذوقی کی آئینہ دار سجاوٹ کے علاوہ نہایت خوبصورتی اور نظافت سے جلی حروف میں لکھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے مزین کیا گیا تھا۔اجتماع کا پہلا دن اجتماع اور تقریب پنجاه سالہ کا آغاز ۱۷ نومبر بروز جمعہ صبح ساڑھے آٹھ بجے ناصرات الاحمدیہ کے پروگرام سے ہوا۔ان کے پروگرام کا افتتاح حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماء الله مرکزیہ نے اجتماعی دعا اور ایک پراثر خطاب سے فرمایا۔131 ناصرات نہایت صاف ستھرے لباس میں ملبوس اس حال میں اجتماع میں شریک ہوئیں کہ انہوں نے اپنے مخصوص جھنڈے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے افتتاحی خطاب کے بعد معیار اول ، معیار دوم اور معیا رسوم کے تقریری مقابلہ جات منعقد ہوئے۔سب سے پہلے معیار سوم میں حصہ لینے والی مقررات نے تقریریں کیں جس میں ۸ تا ۱۰ سال کی بچیوں نے حصہ لیا۔معیار دوم ۱۱ تا ۱۳ سال کی بچیاں مقابلہ میں شامل تھیں اور معیار اول چودہ اور پندرہ سال کی بچیوں کے لئے مخصوص تھا۔مقابلہ جات کے اختتام پر انعام کی مستحق قرار پانے والی مقررات میں انعامات تقسیم کئے گئے اور اجتماع کا پہلا اجلاس جو ناصرات کے لئے مخصوص تھا بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔لجنہ اماءاللہ کے پندرھویں سالانہ مرکزی اجتماع کا افتتاح اسی روز ( یعنی ۷ ا نومبر کو ) تین بجے سہ پہر عمل میں آیا۔اس کا افتتاح بھی حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے اجتماعی دعا اور ایک نہایت ایمان افروز خطاب سے فرمایا۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔بعدہ حضرت سیدہ موصوفہ نے اجتماعی دعا کرائی۔دعا کے بعد جملہ حاضر خواتین نے کھڑے ہو کر آپ کی اقتداء میں اپنا عہد دُہرایا اور پھر آپ نے ایک ایمان افروز افتتاحی خطاب سے اجتماع کو نوازا۔132