تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 121 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 121

تاریخ احمدیت۔جلد 28 121 سال 1972ء میرے سامنے اب بڑی کثرت سے یہ باتیں آنے لگ گئی ہیں کہ بعض خاندانوں یا بعض افراد میں دنیاداری زیادہ آگئی ہے۔ابھی کل ہی میں ایک خط پڑھ رہا تھا اس میں لکھا تھا کہ خاوند کا بیوی سے اس بات پر جھگڑا ہو گیا ہے کہ بیوی زیادہ جہیز نہیں لائی۔میرا شرم کے مارے سر جھک گیا۔میں کہتا ہوں جب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کو پکڑ لیا تو پھر اپنی بیوی سے یہ کیوں کہتے ہو کہ چونکہ تو جہیز ہمارے مطلب کا لے کر نہیں آئی اس لئے ہم تجھے تنگ کریں گے۔اسی طرح بعض عورتیں اپنے خاوندوں کو تنگ کرتی ہیں۔بعض امیر لوگ ہیں جو اپنے غریب بھائیوں کو تنگ کرتے ہیں یا ان کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتے۔تاہم میں بعض لوگوں کا ذکر کر رہا ہوں جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمیں بحیثیت جماعت ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔یہ مقام ہمیں خدا کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ ہی ملا ہے۔غرض میں مخلصین جماعت کی بات نہیں کر رہا۔میں جماعت کے کمزور لوگوں کی بات کر رہا ہوں لیکن چونکہ ہمیں یہ الہی حکم ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا یعنی بغیر استثناء کے تم سب کے سب خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اس کی پناہ میں آ جاؤ۔اس لئے میں نے استثناء کا ذکر کیا ہے۔اس غرض سے کہ یہ استثناء بھی جماعت میں نہیں رہنے چاہئیں۔یا تو ان کی اصلاح ہو جانی چاہیے اور یا ان کو چاہیے کہ وہ خودہی جماعت کو چھوڑ دیں۔ہمارا اس شخص سے آخر کیا واسطہ ہے جو خدا کی آواز کو نہیں سنتا جو اعتصام باللہ نہیں کرتا۔جو تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہیں کرتا اور جو شیطانی تفرقے کی راہوں کو اختیار کرتا ہے؟ ہمارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جمیعاً فرما کر سب کے اوپر ذمہ داری ڈالی ہے اس لئے ساری جماعت کا یہ فرض ہے کہ جہاں کہیں بھی اس قسم کا گند اور بھیا نک استثناء نظر آئے اس آدمی کو سمجھا ئیں اور اس طریق سے سمجھا ئیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے اور جس کے متعلق اس نے فرمایا ہے کہ وہ احسن اور پر حکمت ہونا چاہیے یعنی ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے سب سے اچھا طریق اختیار کرنا چاہیے۔تاہم ایسے