تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 122
تاریخ احمدیت۔جلد 28 122 سال 1972ء استثنائی احمدیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے تو جماعت احمدیہ میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار میں ان کا کوئی حصہ نہیں 66 ہے۔‘116 سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اس سال مجلس خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی باسکٹ بال گراؤنڈ سے متصل وسیع میدان میں ۵-۶۔۷ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو منعقد ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ایبٹ آباد میں خصوصی ارشاد فرمایا تھا کہ اس اجتماع میں ہر مجلس کا ایک ایک نمائندہ ضرور شامل ہونا چاہیے۔اس ہدایت کی تعمیل میں اجتماع کے پہلے روز ۵۱۲ مجالس کے ۳۱۷۶ خدام ربوہ پہنچ چکے تھے جبکہ ۱۹۷۱ ء کے اجتماع کی اختتامی کارروائی کے وقت ۴۲۸ مجالس کے ۳۱۰۲ خدام موجود تھے۔اس خوشکن حاضری پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا:۔دو گزشتہ سال کے اختتامی اجلاس میں جتنی مجالس شامل ہوئی تھیں آج خدا کے فضل سے اجتماع کے افتتاحی اجلاس میں ہی اُس پر پچاس مجالس کا اضافہ ہو چکا ہے اور ابھی مزید مجالس آ رہی ہیں۔“ چنانچہ اجتماع کے پہلے روز ہی گزشتہ سال سے تقریبا ۸۴ مجالس زائد آچکی تھیں۔اس کے علاوہ افتتاح کے وقت تقریباً گیارہ سو زائرین اور دو ہزار اطفال بھی پنڈال میں موجود تھے۔117 افتاحی خطاب سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے ایمان افروز افتتاحی خطاب میں نہایت مؤثر پیرایہ میں مختصر طور پر بتایا کہ علم کن مراحل سے گذر کر کامل ہو کر عرفان کی شکل اختیار کرتا ہے۔بعد ازاں خدام احمدیت کو نصیحت فرمائی کہ وہ دنیا کے بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر اپنے عمل کے میدان میں تبدیلی پیدا کریں اور علم ،فکر اور عقل کو صحیح رنگ میں استعمال کر کے لوگوں کی راہنمائی کریں۔بدلے ہوئے حالات میں ہماری ذمہ داریوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے اور ان ذمہ داریوں کو ادا کر کے ہی ہم اللہ تعالیٰ کے پیار کے حسین جلوے دیکھ سکتے ہیں اور غلبہ حق کے دینی مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو بہر حال مقدر ہو چکا ہے۔118