تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 3
تاریخ احمدیت۔جلد 28 3 سال 1972ء ایک طرف یہ چیز تھی اور دوسری طرف وسعت پیدا کرنی تھی اب میں سوچتا ہوں کہ جس طرح میرے دماغ میں آیا ہے حضرت مصلح موعود کے دماغ میں بھی یہی بات آئی تھی کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے کام میں وسعت پیدا کریں اور وسعت پیدا کریں ان لوگوں کے ذریعہ جو تھوڑا گزارہ لیں اور وقف کی روح کے ساتھ آئیں۔چنانچہ آپ نے ایک خطبہ میں ہزاروں کی سکیم بنادی۔آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا۔اب وہ بیس سال کے بعد پوری ہوتی ہے یا پچاس سال کے بعد پوری ہوتی ہے۔یہ ایک علیحدہ بات ہے لیکن آپ نے اپنی ایک خواہش کا اظہار کر دیا کہ ۷۲ لاکھ روپے آمد ہوسکتی ہے اور اس کے مطابق ساٹھ روپے ماہوار پر کئی ہزار آدمی رکھے جاسکتے ہیں۔- حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا سقوط ڈھا کہ پر زندگی بخش پیغام دسمبر ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے دولخت ہو جانے کے بعد پاکستانی عوام نہایت دل گرفتہ اور اپنے مستقبل سے مایوس نظر آرہے تھے اور اس المناک سانحہ پر ہر پاکستانی خون کے آنسورور ہاتھا مگر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے پاکستانی قوم کو حوصلہ دلانے ، ہمت بڑھانے اور ان میں نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا کرنے کے لئے مسجد مبارک ربوہ میں ۱۴ جنوری ۱۹۷۲ء کو ایک پر جوش خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں حضور نے مسلمانان پاکستان کو ان کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی اور پھر پاکستان کی ترقی اور استحکام کی خاطر تمام پاکستانیوں بالخصوص احمدیوں کو محنت کر کے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی انقلابی تحریک فرمائی۔چنانچہ فرمایا :- اگر کوئی قوم ایسی ہو کہ اس کے سارے شہری، اس میں بسنے والے سب افرادا اپنی صلاحیتوں کو اپنے اپنے دائرہ استعداد کی آخری حدود تک پہنچادیں تو اس سے زیادہ کامیاب اور اس سے زیادہ شاندار نتائج دکھانے والی دنیا میں اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر جب ہماری نگاہ پڑتی ہے تو ( یہ تو درست ہے کہ اس وقت بھی منافق تھے اور کمزور ایمان والے بھی تھے لیکن ) ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت بڑی بھاری اکثریت ایسی تھی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور تربیت میں اپنی صلاحیتوں کی نشونما کو اپنی استعدادوں کے