تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 118 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 118

تاریخ احمدیت۔جلد 28 118 سال 1972ء و تعلیم الاسلام کالج ر بوہ ۱۰۔جامعہ نصرت کا لج ربوہ ۱۹۷۲ ء سے لیکر ۱۹۹۶ ء تک ان ادارہ جات کو حکومت پنجاب چلاتی رہی۔۲۸ جولائی ۱۹۹۶ ء کو حکومت پنجاب کی طرف سے ایک گزٹ مراسلہ زیر نمبر SO(A۔1)SA۔1۔18/90A۔III جاری کیا گیا۔جس میں قومی تحویل میں لئے جانے والے تعلیمی اداروں کے مالکان کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ایک مخصوص جانچ پڑتالی عمل کو پورا کر کے ادارہ جات کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے سکتے ہیں۔صدر انجمن احمدیہ نے اس حکومتی سہولت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔چنا نچہ محکمہ تعلیم پنجاب سے رابطہ کیا گیا اور تمام مطلوبہ شرائط کو پورا کرتے ہوئے مذکورہ بالا ۸ سکولوں کی ایک مخصوص رقم جو 1,10,12,483 ( ایک کروڑ دس لاکھ بارہ ہزار چار صد تر اسی روپے ) بنتی تھی (جس میں ہدایات کے مطابق عملہ کی ۶ ماہ سے لے کر ایک سال کی تنخواہیں اور دیگر الاؤنسز شامل تھے ) اسی وقت حکومتی خزانہ میں جمع کرا دی گئی۔لیکن اس کے باوجود یہ سکول تاحال (۲۰۱۵ء) جماعت کو واپس نہیں کئے گئے۔پھر جولائی ۲۰۰۲ء میں ایک مرتبہ پھر ترمیمی مراسلہ زیر نمبر S۔O(R&B)1۔18/90۔A III کے تحت قومی تحویل میں لئے جانے والے اداروں کی نجکاری کی سکیم جاری کی گئی لیکن ۱۹۹۷ ء سے جماعت کی جانب سے حکومت پنجاب کو بھجوائی گئی بار بار کی یاددہانیوں کے باوجود آج تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔حکومت نے صدر انجمن احمدیہ کے دو کالجز کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔جن کے نام درج ذیل ہیں۔ا تعلیم الاسلام کا لج ربوہ ۲۔جامعہ نصرت کالج ربوہ ترمیمی مراسلہ کے ضمن میں ہی صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے ۱۳ جولائی ۲۰۰۲ء کوحکومت پنجاب سے مذکورہ بالا کا لجز کو بھی واپس انجمن کی تحویل میں دینے کی درخواست کی تھی۔لیکن حکومت نے نہ تو جواب دیا اور نہ ہی جماعت کی درخواست پر کوئی تحریری کا رروائی کی۔یہ بات بطور خاص قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ۱۵ سالوں سے اس قسم کے اہم مسئلہ پر انجمن کی جو کہ ایک فلاحی ادارہ ہے، سے اتنی بڑی رقم وصول کرنے کے باوجود لاہور میں بیٹھی ہوئی صوبائی قیادت نے جماعت کی طرف سے بھجوائے گئے خطوط ، فیکسز اور پٹیشنز کا ایک مرتبہ بھی نہ صرف جواب نہ دیا بلکہ وصولی تک کی