تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 112 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 112

تاریخ احمدیت۔جلد 28 112 سال 1972ء جاتے ہیں۔کوئی مذہب دنیا میں ایسا نہیں پایا جاتا جو یہ کہے کہ میرے عقائد کا یہ اختلاف ہے اور قرآن کریم اسے دور نہیں کرتا۔میں دعوی کرتا ہوں کہ دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے میں ان اختلافات کو قرآن کریم کے ذریعہ دور کر دوں گا۔یہ وہ عظیم کتاب یعنی قرآن کریم ہے جس سے متعارف کرنے کے لئے آپ کو قریباً ایک ماہ کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہے۔آپ کو اس کی عظمت اور شان کے متعلق جو بات بھی کسی سبق اور تقریر میں ملے اسے اپنے ذہن میں رکھیں اور آئندہ زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا ئیں تا کہ ہم اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں کہ ہماری کوئی نسل ایسی نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہیں کہ اس نے قرآن کریم کو مہجور بنا دیا ہے۔نسلاً بعد نسل ہم قرآن کریم کے ذریعہ اپنے سینوں کو تسکین دینے والے، اپنے ذہنوں کی چلا اور اپنی روح کے لئے نور کا سامان پیدا کرنے والے ہوں اور محمد رسول اللہ صلی ا یہی ہم پہ نظر ڈالیں تو خوش ہوں کہ یہ لوگ بعد میں آئے اور پہلوں سے جاملے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ اس کلاس کی اختتامی تقریب مورخه ۱۳ / اگست ۱۹۷۲ء کو محترم چوہدری حمید اللہ صاحب امیر مقامی کی زیر صدارت دفتر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے لان میں منعقد ہوئی۔تلاوت و نظم کے بعد مولا نا ابوالعطاء جالندھری صاحب نے خطاب فرمایا۔آخر میں اس تقریب کے صدر محترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے مختصر تقریر کی اور اجتماعی دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔108 ادار و اشاعت و طباعت قرآن عظیم کا قیام حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اگست ۱۹۷۲ء میں قرآن مجید کی اشاعت وطباعت کی مہم کو تیز کرنے کے لئے مرکز احمدیت ربوہ میں ادارہ اشاعت و طباعت قرآن عظیم کا قیام فرمایا۔اس کے سپر دقرآن مجید سادہ اور باترجمہ اور تفاسیر کی طباعت و اشاعت کا انتظام فرمایا۔یہ ادارہ ابتدا ہی میں قرآن پبلیکیشنز (Quran Publications) کے نام سے رجسٹرڈ کروالیا گیا اور شروع میں حضور نے ابتدائی دو سال کے لئے مندرجہ ذیل احباب کو مجلس منتظمہ کا ممبر مقرر فرمایا:۔۱۔مولانا قاضی محمد نذیر صاحب ناظر اشاعت لٹریچر صدرانجمن احمد یہ پاکستان