تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 113 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 113

تاریخ احمدیت۔جلد 28 113 سال 1972ء ۲۔مولا نا عبدالمالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشادصدرانجمن احمد یہ پاکستان ۳۔مولوی نور محمد صاحب نیم سیفی وکیل التعلیم تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان ۴۔صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم اے ربوہ ۵۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب ربوہ ۶۔مولا نا غلام باری سیف صاحب استاذ الجامعه ربوہ ے۔مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب مولوی فاضل ( مینیجنگ گورنر قرآن پبلیکیشنزر بوه ) 109 جدید پریس کی مجوزہ زمین کا معائینہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مرکز احمدیت ربوہ میں ایک جدید پریس لگائے جانے کا اعلان فرمایا تھا۔اس منصوبہ کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے حضور نے نصرت پرنٹرز اینڈ پبلشرز کے نام سے ایک کمپنی تجویز فرما دی تھی جس کو رجسٹرڈ کروالیا گیا اور اس نے اپنا کام شروع کر دیا۔پریس لگانے کے لئے ابتدائی اہم مرحلہ مناسب اور کھلی زمین کے حصول کا تھا کیونکہ حضور کا منشاء مبارک یہ تھا کہ زمین اتنی کشادہ ہو جس میں پریس کو وقتاً فوقتاً بڑھایا جا سکے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۲۴ اگست ۱۹۷۲ء کو بعد نماز عصر تعلیم الاسلام کالج کے مشرقی جانب کھلی زمین کا معاینہ فرمایا اور چوہدری مبارک مصلح الدین صاحب سیکرٹری آبادی کمیٹی ربوہ کو ارشاد فرمایا کہ وہ زمین کی حدود کی لائنیں لگوا دیں چنانچہ حدود کی لائنیں مکمل ہو جانے کے بعد ۲۸ اگست کو بعد نماز عصر حضور مجوزه زمین دیکھنے تشریف لے گئے اور زمین کو چاروں طرف سے ملاحظہ فرمایا اور پریس کیلئے اس زمین کی منظوری عطا فرما دی۔اس زمین کا رقبہ قریباً چارا یکڑ تھا۔110 بعد ازاں اس کا سنگ بنیاد ۱۸ فروری ۱۹۷۳ء کو رکھا گیا۔ایک انقلاب عظیم کے برپا ہونے کی پیشگوئی حضور انور نے عظمت قرآن کریم کے حوالہ سے خطبات جمعہ کا ایک سلسلہ شروع فرمایا جس میں حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم ایک عظیم ہدایت ہے اور کامل شریعت ہے۔حضور انور نے مؤرخہ ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس صدی میں مبعوث ہوئے۔اس صدی کی انسانی ضروریات کے تحت انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔حضور انور نے فرمایا