تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 100
تاریخ احمدیت۔جلد 28 100 سال 1972ء وقت اپنے نفس کو خدا بنالینا اور نہ اپنے دوستوں کو خدا سمجھنا چاہیے۔اس حقیقت اور اس صداقت پر ہمیشہ قائم رہنا ہے کہ جہاں تک ہماری ذات کا تعلق ہے ہماری حیثیت مردہ کیڑے کے برابر بھی نہیں ہے۔اگر ہم کچھ ہیں تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیں اگر اس کا فضل اور رحمت ہمارے شاملِ حال نہ ہو تو ہم کچھ بھی نہیں۔پھر تو ہمارا دشمن بڑی آسانی کے ساتھ ہمیں پاؤں کے نیچے اسی طرح مسل سکتا ہے جس طرح افریقہ کا وحشی بھینسا جب غصہ میں آتا ہے تو وہ اپنے دشمن کو اس طرح لتاڑتا ہے کہ اس کی ہڈیوں تک کو پیس کر ذرے ذرے بنا کر مٹی میں ملا دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے اور تمہارے شامل حال نہ ہو، اللہ تعالیٰ کا سہارا اور مدد حاصل نہ ہو تو اس وقت جب تم میں سے بعض لوگ بڑے فخر سے اپنی گردنیں اٹھا رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی دشمن میں اتنی طاقت ضرور ہوتی ہے کہ وہ اس وحشی بھینسے کی طرح ہمارے گوشت اور ہڈیوں کا قیمہ بنا کر مٹی میں ملا دے اور پھر ہوا کا جھونکا آئے اور اس غبار کو اڑا کر لے جائے۔پس یہ بھی خطرہ کا مقام ہے اس سے بھی جماعت کو بچنا چاہیے۔اب مثلاً گزشتہ سال ڈیڑھ سال میں سیاسی میدان میں بھی اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔جن لوگوں کے ساتھ جماعت کی اکثریت تھی وہ کامیاب ہو گئے لیکن اگر کوئی احمدی یہ سمجھتا ہے کہ اب ہم کامیاب ہو گئے ہیں اب ہم کچھ بن گئے ہیں تو یہ اس کی بڑی حماقت ہو گی۔بعض دفعہ لوگ میرے پاس بھی آجاتے ہیں کہ سفارش کر دیں مجھے اس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور مجھے ان پر بڑا غصہ آتا ہے۔اسلام کے ذریعہ اور اب اسلام کے عظیم روحانی جرنیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے ذریعہ تمہیں خدا اور اس کی صفات سے روشناس کیا گیا ہے مگر اس کے باوجود تم خدا کو چھوڑ کر سفارشوں کی طرف متوجہ ہوتے ہو۔اس لئے کہ سیاسی میدان میں بظاہر ایک چھوٹی سی فتح تمہیں حاصل ہو گئی ہے۔ایک احمدی کا یہ مقام نہیں ہے اسے خود خدا تعالیٰ کو قاضی الحاجات سمجھنا چاہیے اور جو غیر ایسا نہیں سمجھتے ان کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام کے ذریعہ تم نے خدائے رحمان کو پہچانا ہے تو کیا پھر تم اس کے بعد بھی کسی اور پر توکل کرو گے؟ کیا اس