تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 92
تاریخ احمدیت۔جلد 28 92 سال 1972ء اور علماء سلسلہ نے تقاریر کرتے ہوئے اس امر پر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکریہ ادا کیا کہ اس نے آج دنیا کے پردے پر صرف جماعت احمدیہ کو ہی خلافت کے بابرکت آسمانی انعام سے نوازا ہے اور اس کے ذریعہ سے وحدت و اتحاد کی لڑی میں منسلک کر کے ایک ایسی روحانی قیادت عطا فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اسکی برکات کی حامل ہے۔فاضل مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں دعاؤں ، قربانیوں اور کامل اطاعت کے ذریعہ ایمان بالخلافت کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے تا کہ خلافت کے فیوض و برکات کو ہم زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں اور ہمیشہ یہ نعمت ہمیں حاصل رہے۔یہ تقریب سوا نو بجے اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔77 پہلا آل ربوہ ہاکی ٹورنامنٹ ۲۹ تا ۱ ۳ مئی ۱۹۷۲ء کو پہلا آل ربوہ ہاکی ٹورنامنٹ منعقد ہوا جس کا انتظام تعلیم الاسلام کا لج نے مجلس صحت ربوہ کے زیر اہتمام کرایا تھا۔گل سات ٹیموں نے اس میں حصہ لیا۔مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کے مختلف بلاکس پر مشتمل دو ٹیمیں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی ایک ٹیم، تعلیم الاسلام کالج کی دو ٹیمیں اور مجلس انصار اللہ کی دو ٹیمیں اس میں شامل ہو ئیں۔تمام پیچ بڑے دوستانہ ماحول میں ہوئے اور کھلاڑیوں نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔اس مئی کی شام کو فائنل میچ ہوا جس کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بھی از راه شفقت تشریف لا کر ملاحظہ فرمایا۔فائنل میچ تعلیم الاسلام کالج اور رحمت بلاک کے درمیان ہوا جو تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم نے ایک گول سے جیت لیا۔تاہم مد مقابل رحمت بلاک کی ٹیم نے بھی بڑا عمدہ کھیل پیش کیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کی بھی تعریف فرمائی اور اسے خاص انعام سے نوازا۔تقسیم انعامات سے قبل تلاوت قرآن کریم سے کارروائی کا آغاز کیا گیا۔جس کے بعد ٹورنامنٹ کمیٹی کے صدر پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب نے مختصر رپورٹ پڑھی۔بعد ازاں حضور انور نے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو مصافحہ کا شرف بخشا اور انہیں انعامات عطا فرمائے۔حضور نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اہل ربوہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ کھیلوں کا اتنا اعلیٰ اور عمدہ معیار قائم کریں کہ غیر ملکی ٹیمیں بھی یہاں آکر کھیل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت محسوس کریں اور ہماری ٹیمیں ملک کی نامور ٹیموں کا مقابلہ کر سکیں۔فرمایا ہمارے اندر جو ہر قابل کی کمی نہیں ہے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ صیح معنوں میں نشو نما ہوتا کہ صلاحیتیں اجاگر ہوسکیں۔اس سلسلے میں