تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page iii of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page iii

پیش لفظ سال ۱۹۷۲ ء کے حالات و واقعات پر مشتمل تاریخ احمدیت کی یہ ۲۸ ویں جلد ہے۔اس میں روز افزوں ہونے والی جماعتی ترقیات کا نہایت دلکش اور ایمان افروز تذکرہ موجود ہے۔سال ۱۹۷۱ء میں پاکستان کا مشرقی حصہ الگ ہو جانے کی وجہ سے قوم پر جو سوگ اور غم کی حالت طاری تھی۔اس سے نکلنے کے لیے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث مسلسل اپنے ولولہ انگیز ارشادات کے ذریعہ اہل پاکستان کی ہمت بندھاتے رہے اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے از سرنو اپنی صلاحیتیں بروئے کارلانے کا پیغام دیتے رہے۔اس سال مجلس صحت کا قیام بھی عمل میں آیا جس کے ذریعہ افراد جماعت کی ذہنی وجسمانی نشوونما کا عظیم منصوبہ پیش کیا گیا۔اسی طرح ربوہ کی پر عظمت و پرشکوہ جامع مسجد اقصیٰ کا افتتاح عمل میں آیا۔اس مسجد کی تعمیر کے اخراجات ایک نہایت مخلص احمدی بزرگ مکرم محمد صدیق بانی صاحب نے ادا کر کے اولین کی قربانیوں کی یاد تازہ کر دی۔اس مسجد کے بعض دلچسپ کوائف اور تصاویر بھی شامل اشاعت ہیں۔پاکستان کے ہمسایہ ملک چین کے سفیر چانگ تنگ ربوہ تشریف لائے تو اہلِ ربوہ نے اعلیٰ جماعتی روایات کے مطابق آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔ان کی ربوہ میں مصروفیات اور ملاقاتوں کا حال بھی لائق مطالعہ ہے۔حکومت پاکستان نے زرعی اور تعلیمی اصلاحات کے نام سے جماعت احمدیہ کی زمینیں اور تعلیمی ادارے بغیر کسی معاوضہ کے اپنے قبضہ میں کر لیے، اس جلد میں اس کا مختصر تذکرہ موجود ہے۔اگر چہ حکومت کے ان اقدامات کے پس پردہ حسن نیت کا فرمانہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق جماعت احمدیہ کو کسی قسم کی کوئی کمی نہ آنے دی۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو وہ دل دیئے ہیں جو اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں اور ایسے دل جن کے پاس ہوں ان کے ہاتھ میں کوئی کیسے کشکول پکڑ سکتا ہے۔اس جلد میں جماعتی و ذیلی اجتماعات اور جلسوں کی رپورٹس بھی شامل ہیں۔۱۹۷۲ء کا سالانہ جلسہ ایک خاص شان کے ساتھ منعقد ہوا۔دسمبر ۱۹۷۱ ء میں پاک بھارت جنگ کی وجہ سے جو سالانہ جلسہ نہ ہو سکا تھا اس تشنگی کی وجہ سے بھی احباب جماعت کی بہت بڑی تعداد خاص ذوق و شوق سے شامل