تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 180
تاریخ احمدیت۔جلد 28 180 سال 1972ء نے فرمایا کہ ہمارا ملک جب سے بنا ہے یہ بڑا ہی مظلوم چلا آتا ہے۔اس کی سب سے بڑی دلیل گزشتہ دوسال کے فساد کا زمانہ ہے۔گزشتہ انتخابات میں ممکن ہے بعض شکایات پیدا ہوئی ہوں اور وہ درست بھی ہوں لیکن یہ امرسب تسلیم کرتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی اس میں دھاندلیاں نہیں ہوئیں۔ان انتخابات کے نتیجہ میں عرصہ کے بعد ملک میں جمہوریت قائم ہوئی ہے لیکن افسوس ہے کہ اب اسے بھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا اور جمہوریت کا نام لے کر کند چھری سے جمہوریت کو ذبح کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔یہ لوگ اگر واقعی جمہوریت چاہتے ہیں تو پھر انہیں صرف جمہوری طریق ہی اختیار کر کے موجودہ حکومت کو ہٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔گلیوں میں نکل کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا تو کوئی جمہوری طریق نہیں۔موجودہ حکومت سے ہزار اختلاف ہو سکتے ہیں مگر صبر و تحمل کے ساتھ اسے کچھ عرصہ کام کا موقع تو دو۔حضور نے فرمایا کہ ملک کے یہ افسوسناک حالات ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی دعاؤں کا بڑا حصہ اپنے ملک کے لئے وقف کر دیں تا کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسمت کو سنوار دے اس میں رہنے والوں کو سمجھ اور فراست عطا کرے۔وہ فتنہ وفساد کی بجائے ایک دوسرے کی خدمت کو اپنا شعار بنا ئیں تاکہ سب کا دکھ درد دور ہو اور کوئی بھی تکلیف نہ رہے۔پھر غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کریں جو ہماری زندگیوں کا اصل مقصد ہے اس کے لئے جس قدر اموال کی جس قدر واقفین زندگی کی اور جس قدر مادی ذرائع کی ضرورت ہے اس کا کروڑواں حصہ بھی ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ جتنی طاقت ان کے پاس ہے وہ اگر پیش کر دیں تو پھر باقی طاقت میں خود دے دوں گا۔وہ فرماتا ہے کہ جو تمہارا ہے وہ مجھے دے دو پھر جو کچھ میرا ہے وہ سب میں تمہیں دے دوں گا۔اس وعدہ پر بھروسہ کرتے ہوئے قربانیاں پیش کرتے چلے جاؤ اور پھر یہ دعا بھی کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیوں کو قبول کرے اور ان کے وہ نتائج ظاہر کرے جن کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔180