تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 84 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 84

تاریخ احمدیت۔جلد 27 84 سال 1971ء ۴ فروری ۱۹۷۱ ء کو ہندوستان نے اپنی فضائی حدود پر پابندی عائد کر دی۔پاکستان کا کوئی مسافر بردار جہاز بھی ہندوستان کے کسی علاقہ سے نہیں گزر سکتا تھا۔ہوائی پروازوں پر پابندی کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان عملاً کٹ کر رہ گئے۔اسی دوران شیخ مجیب الرحمان نے سول نافرمانی کی تحریک کے ذریعہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کے جذبات کو بری طرح مشتعل کر دیا۔۲۶ مارچ ۱۹۷۱ء کو جنرل آغا محمد یحی خان نے ملک بھر میں تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی اور شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کر لیا گیا۔شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری کے بعد مشرقی پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے بھی احتجاج شروع کر دیا۔ہندوستان نے فضائی راستے کے ساتھ ساتھ بحری راستے بھی بند کر دیئے اور ہندوستانی پریس مغربی پاکستان کے خلاف بنگالیوں کے جذبات کو ابھارتا رہا۔حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائیوں میں بھی شدت آگئی۔یہ وہ دور تھا جب مشرقی پاکستان میں بنگالیوں نے ایک نجات دہندہ تنظیم مکتی باہنی بنائی تھی چنانچہ مکتی باہنی ، فوج کے خلاف برسر پیکار ہوگئی جسے بنگالیوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔حالات مزید بگڑنے پر جنرل یحیی خان نے نکا خان کو مشرقی پاکستان کا مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بنا کر بھیجا لیکن حالات نہ بدل پائے۔بری، فضائی اور بحری راستوں کی بندش کے باعث مشرقی پاکستان ایک محصور جزیرہ سا ہو گیا تھا جہاں کوئی آجا نہ سکتا تھا۔مستزاد یہ کہ فوج اور مکتی باہنی آمنے سامنے تھے۔جون ۱۹۷۱ء میں ہندوستان نے مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر حملے کرنے شروع کر دیے اور ہندوستانی افواج نے مکتی باہنی کے اشتراک سے مشرقی پاکستان کے اندر بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔80 ۲۱ نومبر ۱۹۷۱ء کو ہندوستان نے اس کشمکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) پر مختلف اطراف سے کئی مقامات پر حملہ کر دیا۔ان مقامات میں کومیلا، سلہٹ ، چٹا گانگ، جیسور، دینا جپور، رنگ پور، مرزا پور، چاٹ گام میمن سنگھ ، شمشیر نگر وغیرہ سیکٹر ز شامل تھے۔۲۴ نومبر ۱۹۷۱ء کوصدر مملکت جنرل آغا محمد یحیی خان نے مشرقی پاکستان پر اعلان جنگ کے بغیر بھارتی فوجوں کے حملہ کے بعد ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا۔صدارتی اعلان میں بتایا گیا کہ پاکستان پر بیرونی جارحانہ حملہ کے نتیجہ میں انتہائی سنگین اور ہنگامی حالات پیدا ہو گئے ہیں اس لئے ۲۵ مارچ کے فرمان اور عبوری آئین کے تحت حاصل شدہ اختیارات کے تحت ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا جاتا ہے۔81