تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد 27 83 سال 1971ء دسمبر ۱۹۶۷ء کو ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام بھی عمل میں آیا۔مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے قیام کے فوراً بعد ہی عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کر لی۔پاکستان کے مشرقی حصہ میں عوامی لیگ کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کی نیم مختاری کے لئے چھ نکات پیش کئے ہوئے تھے جن کو صدر محمد ایوب خان قابل پذیرائی خیال نہیں کرتے تھے لیکن شیخ مجیب الرحمن کے یہ نکات مشرقی پاکستان میں بہت مقبول ہو چکے تھے۔پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے صدر ایوب کی کھل کر مخالفت شروع کر دی تھی گویا اب صدر ایوب کو دو محاذوں کا سامنا تھا۔صدر ایوب کی گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی اور دونوں محاذوں پر صدر ایوب کے خلاف تحریک بڑھتی گئی۔آخر کار ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو صدر محمد ایوب خان نے دوبارہ مارشل لاءلگا دیا اور ملک کی باگ ڈور بری فوج کے کمانڈر انچیف آغا محمد یحیی خان کے سپر د کر دی۔جنرل آغا محمد یحیی خان نے ملک کی سیاسی صورتحال سنبھالنے اور آئینی مسائل حل کرنے کی خاطر ۲۹ مارچ ۱۹۷۰ ء کو ایک آئینی ڈھانچہ کا اعلان کیا۔آئینی ڈھانچہ ترتیب دینے کے بعد ے دسمبر ۱۹۷۰ء کو انتخابات کروانے کا اعلان کیا گیا۔ان انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں ۱۶۹ میں سے ۱۹۷ (قریبا ۱۰۰ فیصد نشستیں جیتیں جبکہ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے ۱۴۴ میں سے ۸۶ (۶۰ فیصد) نشستیں حاصل کیں۔اس طرح پاکستان بھر میں عوامی لیگ نے قریباً ۵۷ فیصد اور پیپلز پارٹی نے ۲۸ فیصد نشستیں حاصل کیں۔اور عوامی لیگ بلحاظ آبادی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن گئی۔چنانچہ یہ بات قریباً طے ہو گئی کہ پاکستان کے آئندہ وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان ہوں گے لیکن دونوں جماعتوں میں اقتدار کے حصول کے لیے ایک طرح کی رسہ کشی شروع ہو گئی۔پیپلز پارٹی عوامی لیگ کے ۶ نکات کو ملکی سالمیت کے خلاف سمجھتی تھی۔اس لیے اس کی خواہش تھی کہ ملک کے دونوں حصوں کا اقتدار اس کے سپر د کیا جائے۔جنرل یحیی خان نے کوشش کی کہ وہ عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کروا سکیں لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے چنانچہ اپنے حق کو تسلیم کروانے کے لیے عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں ہنگامہ آرائیاں کرنی شروع کر دیں۔اس موقعہ پر ہندوستان نے بھی شیخ مجیب الرحمان اور اس کے ۶ نکات کو خوب سراہا اور عوامی لیگ کی حمایت شروع کر دی۔