تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 82
تاریخ احمدیت۔جلد 27 82 سال 1971ء تو اب تک کی ساری کمی پوری ہوسکتی ہے۔آپ تو مجاہد بچے ہیں خدا تعالیٰ کا فضل آپ کے شامل حال رہے تو آپ کے عزم اور ارادے کی راہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیکی کی توفیق عطاء فرمائے اور ایسا شاندار نمونہ پیش کرنے کی توفیق بخشے کہ رشک کے ساتھ دنیا کی نگا ہیں آپ پر پڑنے لگیں۔اور خدا کرے کہ دشمن کی حسد کی آنکھ سے آپ ہمیشہ محفوظ رہیں اور اپنی اپنی توفیق کے مطابق قربانی کی شاندار مثالیں پیش کریں۔آمین وقت تھوڑا ہے بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ماہ دسمبر کے اختتام سے پہلے پہلے تین لاکھ روپے اکٹھا کرنے ہیں۔اے ننھے منے احمدیت کے بچو اور بچیو۔چیونٹیوں کی طرح کام کرو اور اپنے امام کی اس توقع کو توقع سے بڑھ کر پورا کرو۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین نوٹ۔وقف جدید کی طرف سے اس مقابلہ میں اول ، دوم اور سوم آنے والی مجالس اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کے نام حضور انور کی خدمت میں خصوصی دعا کی درخواست کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔شہری مجالس کا مقابلہ الگ ہو گا اور دیہاتی مجالس کا مقابلہ الگ۔یہ مقابلہ ابتداء ماہ اخاء (اکتوبر) سے شروع ہے۔فاستبقوا الخيرات۔پاک بھارت جنگ ۱۹۷۱ء والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد ناظم مال وقف جدید 79 ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان نے ملک کے نا گفتہ بہ حالات کے باعث اس وقت کے صدر مملکت میجر جنرل سکندر مرزا کو ہٹا کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔میجر جنرل سکندر مرزا نے اس سے قبل ۷ اکتوبر ۱۹۵۸ ء کو اس وقت آئین و جمہوریت کی بساط لپیٹ کر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کر دیا تھا جبکہ ملکی سیاست غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار تھی۔صدر ایوب کے دور میں جہاں ۱۹۶۲ء کا آئین منظور ہوا اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی۔کیم