تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 81 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 81

تاریخ احمدیت۔جلد 27 81 سال 1971ء ” میرے پیارے اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کیا آپ کو یاد ہے کہ آج سے چھ سال قبل ہمارے پیارے امام حضرت اقدس خلیفہ اُسیح الثالث نے احمدی بچوں اور بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وقف جدید کی تمام مالی ذمہ داریاں تم سنبھال لو اور ہر ماہ اپنے ماں باپ سے آٹھ آنے مانگ کر وقف جدید کا چندہ ادا کیا کرو یہاں تک کہ وقف جدید کا سارا بار ننھے منے احمدی مجاہد اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔دنیا کی نظر میں یقیناً یہ بات بڑی عجیب ہوگی لیکن یہ عجیب بات آپ نے دنیا کو ضرور کر کے دکھانی ہے آپ نے دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ احمدی بچے اپنے امام کی آواز پر لبیک کہنا جانتے ہیں۔آپ نے دنیا کو دکھانا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے نازک کندھے دین محمدصلی ما یتیم کی خاطر بڑے عظیم الشان بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔آپ نے دنیا کو دکھانا ہے کہ آپ کی عمریں چھوٹی لیکن شعور بالغ ہے اور ارادے بلند ہیں اور آپ نے دنیا پر یہ خوب روشن کر دینا ہے کہ آپ خدمت دین کے ڈھنگ جانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جانی اور مالی قربانی کس کو کہتے ہیں۔دنیا کو چھوڑیے کہ وہ تو قربانی اور خدمت کے ناموں سے بھی نا آشنا ہوتی جا رہی ہے۔دنیا کو بھلا کیا معلوم کہ دین کی خاطر کیسے زندگی وقف کی جاتی ہے۔اور کس طرح اسلام کے قدموں پر مال نچھاور ہوتے ہیں۔رہنے دیجیئے دنیا کو کہ اسے آپ سے کوئی نسبت نہیں۔ہاں نیکی میں اگر مقابلہ کرنا ہے تو اپنے خدام بھائیوں سے کیجئے۔اگر آگے قدم بڑھانا ہے تو لجنہ اماءاللہ سے آگے بڑھ کر دکھائیے۔حضرت خلیفہ اسیح آپ سے یہ توقع فرماتے ہیں کہ آپ امسال وقف جدید کے لیے تین لاکھ روپے پیش کر دیں گے مگر آپ نے تو ابھی اس کا ایک حصہ بھی پیش نہیں کیا۔کیا یا مر آپ کے لیے شرمندگی کا موجب نہیں؟ یقیناً ہو گا لیکن اس شرمندگی کو مٹانا بھی تو آپ ہی کا کام ہے ہمت اور دعا سے کام لیں تو کچھ بھی مشکل نہیں۔اگر ایک ماہ بھی آپ دھن لگا کر جوش و خروش سے کام کریں