تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 78
تاریخ احمدیت۔جلد 27 78 سال 1971ء سماعت کیرالہ ہائیکورٹ کے فاضل جج مسٹر جسٹس کرشنا آئیر نے کی اور پھر اپنے قابل قدر تاریخی فیصلہ میں جماعت احمدیہ کے عقائد پر طویل بحث کرتے ہوئے احمدیوں کے بارے میں پٹنہ اور مدراس ہائیکورٹوں کے فیصلہ جات سے اتفاق کرتے ہوئے احمدیوں کو مسلمان قرار دیا اور فیصلہ میں صاف لکھا کہ ”بغیر جذ بہ اور جوش کے اور قانون کی ٹھنڈی روشنی میں مجھے یہ قرار دینے میں قطعاً کوئی تردد نہیں کہ فرقہ احمد یہ اسلام کا ہی ایک فرقہ ہے اس کا غیر نہیں 75 یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پٹنہ ہائیکورٹ نے جنوری ۱۹۱۷ء کو یہ فیصلہ دیا تھا کہ احمدی مسلمان ہیں اگر چہ کٹر مسلمانوں کے بعض عقائد سے ان کو شدید اختلاف ہے اور احمدی مسجد میں داخل ہونے کے حقدار اور مجاز ہیں اگر وہ چاہیں“۔76 ہائیکورٹ کے فاضل جج صاحبان چیف جسٹس مسٹر اولڈ فیلڈ ( 'Francis Du Pre Oldfield) اور مسٹر جسٹس کرشنن (Mr۔Krishnan) نے بھی یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر کوئی مسلمان جماعت احمدیہ میں شامل ہو جائے تو وہ مرتد نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ اس کی بیوی کا رشتہ ازدواج منقطع ہوجا تا ہے۔جسٹس کرشنن نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ مستند قانونی و عدالتی حوالہ جات کی روشنی میں جن کو میں قبول کرتا ہوں اگر کوئی شخص جماعت احمدیہ کے عقائد قبول کر لے اسے مرتد نہیں قرار دیا جا سکتا اور میری رائے میں احمدی مسلمانوں کا ایک اصلاح یافتہ فرقہ ہے جو قرآن کریم کو اپنی الہامی کتاب مانتا ہے۔77 بیرونی ممالک میں تحریک وقف عارضی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی جاری فرمودہ تحر یک وقف عارضی بیرونی ممالک میں بھی مقبول ہو رہی تھی اور حضور کی ہدایت کے مطابق متعدد واقفین عارضی اپنے اپنے ملک کے انچارج مشنریوں کے تحت خدمت بجالا رہے تھے۔چنانچہ مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ناظر اصلاح و ارشاد کے قلم سے اس سلسلہ میں اخبار الفضل مورخہ ۳۰ اکتو بر ۱۹۷۱ء صفحہ ۴ پر حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔حال میں جور پورٹیں غیر ممالک سے موصول ہوئی ہیں ان کا خلاصہ بغرض تحریک دعا ذیل میں شائع کیا جاتا ہے۔