تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 79 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 79

تاریخ احمدیت۔جلد 27 79 سال 1971ء لنڈن :۔مکرم میاں محمد عالم صاحب ریٹائر ڈ اسٹیشن ماسٹر بطور وقف عارضی جنوری ۱۹۷۰ء سے لنڈن میں مقیم ہیں اور نہایت استقلال کے ساتھ تعلیم و تربیت کا کام کر رہے ہیں۔۳۹، افرادان سے استفادہ کرتے ہیں۔۲۵ طلباء کو اپنے محلہ کے تین گھروں میں دو بجے سے سات بجے تک روزانہ یتر نا القرآن، قرآن مجید ناظرہ اور اردو پڑھاتے ہیں۔اسی طرح ہفتہ میں دو دن، ہفتہ اور اتوار کو لنڈن مسجد میں جا کر سنڈے سکول میں ۱۴ طلباء کو پڑھاتے ہیں۔سیرالیون :۔مکرم میاں عطاء الرحیم حامد صاحب نے وقف عارضی کے ایام کینما اور باڈو کی جماعتوں میں گزارے۔کینما میں ہماری نئی مسجد زیر تعمیر ہے۔آپ نے دوران قیام کینما تعمیر کے کام کی نگرانی کی۔اس جگہ آنے والے لوگوں کو تبلیغ کی۔آپ کو روزانہ اوسطاً دس افراد تک پیغام پہنچانے کا موقعہ ملا۔کینما کے مختلف حلقوں میں جا کر مغرب و عشاء اور فجر کی نمازوں کے بعد تربیتی امور کو مد نظر رکھ کر درس دیتے رہے۔ایک حصہ وقف کے ایام کا آپ نے باڈو میں گذارا۔اس جگہ جماعت کی اپنی مسجد ہے۔مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کے بعد درس کا سلسلہ شروع کیا۔جماعت میں تحریک کر کے نماز تہجد ادا کرنے کا انتظام کیا۔ہو: مکرم جناب مبارک احمد صاحب نذیر پرنسپل احمد یہ سیکنڈری سکول جورو کو جنہوں نے پندرہ روزہ عرصہ وقف عارضی کے تحت دیا تھا۔مکرم مشنری انچارج صاحب سیرالیون نے بو (Bo) میں احمدیہ مسجد کی تعمیر کے کام کی نگرانی کے لئے مقرر کیا۔اسی طرح جوروسکول کے تین احمدی طلبہ اسماعیل فوڈے، عبد اللہ نائیکا اور ایڈورڈ سمو کا نے بھی حضور کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے پندرہ پندرہ ایام وقف کئے۔محترم حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بھی فارم وقف عارضی پر کیا ہوا ہے وہ یہ فریضہ ہر سال ا فر ماتے ہیں۔جزاهم الله جميعاً خير الجزاء‘۔ملکی دفاع سے متعلق حضرت خلیفہ اسح الثالث کی خصوصی تحریک ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۱ء کوسید نا حضرت خلیفة المسیح الثالث نے خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرما یا:۔جیسا کہ ہمارے پریذیڈنٹ جنرل محمد یحیی خان صاحب نے اپنی ۱۲ تاریخ کی تقریر میں کہا ہے بھارتی فوجیں ہماری سرحدوں پر جمع ہیں اور کسی وقت حملہ ہوسکتا ہے ان حالات میں انہوں نے قوم کو نصیحت کی۔انہوں نے قوم سے کچھ امیدیں وابستہ