تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلد 27 76 سال 1971ء حضور نے فرمایا کہ کیا میں آپ میں سے ہر ایک پر یہ حسن ظن رکھوں کہ آج اسلام کی جنگ میں آپ پیٹھ نہیں دکھا ئیں گی اور دنیا کا لالچ اور دنیا کی زینت آپ کو خدا تعالیٰ سے دور نہیں لے جائے گی۔اگر میں اپنے اس حسن ظن پر ہوں تو آج بھی ہماری حقیر کو ششوں کے نتائج دنیا اس طرح دیکھے گی جس طرح اس نے اسلام کی ابتداء میں صحابہ کی کوششوں کے دیکھے تھے۔73 ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا تین ہزار پاؤنڈ کا گرانقدر عطیہ نصیر احمد خاں صاحب صدر شعبہ طبیعات تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے قلم سے روز نامہ الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۷۱ء کے صفحہ ۶ پر یہ خوشکن اطلاع شائع ہوئی کہ:۔محترم پروفیسر عبدالسلام صاحب ایف آرایس سائنسی مشیر اعلیٰ صدر پاکستان نے شعبہ فزکس تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی لائبریری کے لئے تین ہزار پاؤنڈ کی گرانقدر رقم کا عطیہ منظور فرمایا ہے اور نہ صرف رقم مہیا کی ہے بلکہ کتب کے انتخاب کے متعلق بھی خصوصی تجاویز اور مشورہ سے ہمیں نوازا ہے قبل ازیں محترم پروفیسر صاحب موصوف اسلامیہ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج جھنگ اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی فزکس لیبارٹریز کو سائنسی آلات کے لئے عطیات دے چکے ہیں اس طرح آپ نے پاکستان میں طبعیات کی تعلیم و تدریس کے لئے مقدور بھر کوشش و سعی کر کے علم پروری کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔مجلس انصار اللہ مرکز سیہ کا سالانہ اجتماع ۱۵ اکتو بر ۱۹۷۱ کو انصار اللہ مرکزیہ کا سولہواں سالانہ اجتماع با وجود ملکی نازک حالات کے وقوع پذیر ہوا۔امسال ۵۶۰ مجالس اجتماع میں شریک ہوئیں۔ان کے نمائندگان کی تعداد ۶ ۷ ۱۰ راور اراکین کی تعداد ۱۸۴۱ رہی۔اس طرح گذشتہ سال کے مقابلے میں مجالس کی تعداد میں ۹۵ اور نمائندگان کی تعداد میں ۱۵۱ کا اضافہ ہوا۔یہ اجتماع دفاتر مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے احاطہ میں وقوع پذیر ہوا۔اس سال حضرت خلیفہ المسح الثالث نے خدام الاحمدیہ کوخصوصی طور پر ی تحریک فرمائی تھی کہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں انصار اللہ کے اجتماع میں شامل ہو کر تقاریر سے مستفیذ ہوں۔اس لئے اس دفعہ کثرت کے ساتھ خدام و اطفال بھی اجتماع میں شامل ہوئے۔حتی کہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے حضور