تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 71 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 71

تاریخ احمدیت۔جلد 27 71 سال 1971ء عطا کیا۔یہ مقام آج اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو دیا ہے اور یہ مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ وقت نے نوجوانانِ احمدیت کو دیا ہے۔یہ اللہ کا بڑا احسان ہے۔حمد کے ترانے گا و سروں کو اونچا نہ کرو اور خدمت کا جو مقام ہے اسے نہ بھولنا۔آپ خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں آپ کو خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ تمہیں میں نے (للنَّاسِ ) انسانوں کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔اگر آپ اپنے اس مقام کو نہ بھولیں تو آپ خیر امت ہوں گے۔دنیا میں کوئی ایسی امت پیدانہ ہوئی ہوگی اور نہ پیدا ہوگی۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس مقام تک پہنچے وہ انتہائی نقطۂ عروج ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھا اس کا مقام بھی انتہائی نقطۂ عروج پر ہے لیکن اس کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھنا ضروری ہے اس کے بغیر نہیں۔پس ہمارے رب نے ہمیں خدمت کے مقام پر کھڑا کر دیا تو اس نے ہم پر بڑا ہی احسان کیا۔آپ اس مقام کو کبھی نہ بھولیں۔پس تم خدمت کیلئے تیار ہو جاؤ۔ہر انسان جس حیثیت میں بھی ہے اس کی آپ نے خدمت کرنی ہے۔حضور انور نے خطاب کے آخر پر فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدمت کے نقطۂ نگاہ سے جو عظیم ذمہ داریاں ہم پر ڈالی گئی ہیں انہیں پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہمیں توفیق ملے اور پھر اس کے بعد محض اپنے فضل سے نہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے ہمیں جو بشارتیں اس نے دی ہیں اس کے مطابق ہمیں انعامات سے نوازے۔70 ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا خطاب ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اس اجتماع میں اصلاح وارشاد“ کے موضوع پر ایک اہم خطاب فرمایا جس میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں خدام احمدیت کو دعوت الی اللہ کی اہمیت اور اس کے زریں قرآنی اصول بتائے چنانچہ فرمایا :۔دعوت حق آپ کے لئے ایک فریضہ ہے اور اس کو آپ ٹال نہیں سکتے۔اگر ٹالیں گے تو آپ کی ہستی کامل صورت اختیار نہیں کرے گی۔ناقص بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔بظاہر تو وہ انسانوں کے زمرہ میں شمار ہوں گے لیکن حقیقتا وہ مکمل انسان نہیں ہوتے۔تو تبلیغ کے بغیر ایک مومن خادم کا تصور نامکمل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فریضہ کو کیسے سمجھا اور کس طرح ادا کیا۔یہ بہت بڑی تفصیل ہے۔