تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 70
تاریخ احمدیت۔جلد 27 70 سال 1971ء اختتامی خطاب سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ میں جماعت احمدیہ کو عموماً اور نو جوانوں کو خصوصاً اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تمہاری ماں ، مادر وطن آج تمہیں بلا رہی ہے اور تم سے قربانی چاہتی ہے۔پاکستان کی سالمیت اور اس کی حفاظت کے لئے ہماری طاقتوں کا آخری جزو بھی خرچ ہو جانا چاہیے۔ہمارے ذہن ہر قربانی کیلئے تیار ہیں اور ہمارا عمل ہمارے ذہنی فیصلوں کی ہر وقت تائید کرنے والا ہو۔اگر مادر وطن نے ہم سے قربانی مانگی تو خدا کرے کہ سارے پاکستانی ہی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملک کی سالمیت پر قربان ہو جائیں لیکن احمدیوں کو بہر حال کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے صرف یہی نہیں کہ نسبتا پیچھے نہیں رہنا بلکہ دوسروں کی طرف دیکھے بغیر قربانیوں میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جانا ہے انشاء اللہ۔حضور نے فرمایا کہ آپ کے سر خدا تعالیٰ کے حضور اس شکرانے کے طور پر زیادہ سے زیادہ جھک جانے چاہئیں اور دنیا کو خوش ہونا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ آپ کو خدمت کے مقام پر کھڑا کر دیا یہ اللہ کا بڑا احسان ہے۔جو لوگ آقا کے مقام پر ہوتے ہیں ان میں سے تو ایک حصہ وہ ہے جو اپنے زور بازو سے جنگ کے نتیجہ میں اثر و اقتدار کے لحاظ سے اور دولت کی وجہ سے خود آقا بن جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ آقا بناتا ہے۔جنہیں اللہ تعالیٰ آقا بناتا ہے وہ بھی اور جو خود آقا بن جاتے ہیں وہ بھی ، بڑے نازک مقام پر ہیں۔جو خدا کے فضل اور اس کی مدد سے بڑے ہو کر نیچے گر جاتے ہیں ان کا تو کچھ باقی نہیں رہتا اور جو اس دنیوی نظام کے تحت بڑے بن جاتے ہیں ان میں لالچ پیدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تو وہ دھتکارے ہی جاتے ہیں انسان کی نگاہ بھی حقیقتاً نہیں عزت سے نہیں دیکھتی۔سوآقا کا مقام خوف کا مقام ہے ڈرتے رہنے کا مقام ہے خشوع وخضوع کا مقام ہے۔بڑے بڑے اونچے جانے والے سر کے بل گرے اور ان کے پر خچے اڑ گئے لیکن وہ خادم جس کا سر اپنے رب کے حضور سجدہ میں زمین پر ہی رہتا ہے وہ کہاں گرے گا۔وہ تو بلند ہی نہیں ہوا وہ جب بلند ہوتا ہے تو اس وقت بلند ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس وقت اسے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔خادم کا مقام یہ ہے کہ سر ہر وقت زمین پر سجدہ ریز رہے۔اس واسطے اس قوم اور اس نسل پر خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے جسے خدا تعالیٰ نے خادم کا مقام دیا اور خادم کا احساس دیا اور خدمت کا جذبہ