تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 63 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 63

تاریخ احمدیت۔جلد 27 63 سال 1971ء ہاؤسز میں فرنیچر دیکھا گیا بالآخر محترم کرنل محمد عطاء اللہ صاحب محترم (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور محترم چوہدری حمید نصر اللہ خاں صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا۔ان حضرات نے متعدد لائبریریوں کے فرنیچر کا جائزہ لیا اور باہمی مشورے سے پسند کیا کہ کتب ورسائل واخبارات رکھنے اور احباب کے مطالعہ کے لئے جدید قسم کا فرنیچر تیار کروایا جائے اس کے لئے گجرات کی مشہور فرم نظام فرنشنگ ہاؤس کو جو بہترین فرنیچر تیار کرنے میں بہت مشہور فرم ہے کو پچاس ہزار روپے کا آرڈر دیا گیا۔اس وقت تک ۳۵ ہزار کا فرنیچر آچکا ہے اور لائبریری میں رکھوادیا گیا ہے کچھ مزید تیار ہورہا ہے۔مین ہال میں ایک اچھی قسم کا کلاک بھی لگوا دیا گیا ہے۔عمارت کے سلسلہ میں چند باتوں کا بیان کرنا ضروری ہے جن کو تعمیر کے وقت مدنظر رکھا گیا تا عمارت کی پائیداری اور مضبوطی کے ساتھ ساتھ اس کی دیدہ زیبی احسن رنگ میں قائم رہے۔لائبریری کے لئے زمین کا قطعہ ۲۲۰ × ۱۰۰ ریز رو کیا گیا تھا جس میں سے ۹۲۰۰ مربع فٹ تعمیر شدہ عمارت کا پلنتھ ایریا ہے باقی سارا ایریا کار پارک، سائیکل سٹینڈ ، فٹ پاتھ ، باغیچے اور چار دیواری پر مشتمل ہے۔عمارت کی بنیادوں ، ستونوں اور فرش میں Sulphate Resisting سیمنٹ استعمال کیا گیا ہے تاکہ کلر اور شور کے نقصان دہ اثرات سے عمارت محفوظ رہے۔اسی طرح اس عمارت کی تعمیر میں دریا کے ٹیوب ویل کا پانی استعمال کیا گیا ہے کیونکہ لوکل پانی سے دریا کا پانی نسبتاً بہتر تھا۔پوری عمارت R۔C۔C فریم سٹرکچر کی ہے۔بنیا دیں۔R۔C۔C ہیم کی ہیں عمارت میں R۔C۔C فریم کے درمیان اینٹ سٹرکچر ہے اور باہر فیسنگ ہے۔Facing کے لئے اینٹیں خاص طور پر لاہور سے منگوائی گئیں۔پوری عمارت کی بیرونی کھڑکیاں لوہے کی Glazed رکھی گئی ہیں۔دروازے ساگوان لکڑی کے ہیں۔چھتیں۔R۔C۔C کی ہیں اور فرش ماربل چپس کے تیار کئے گئے ہیں۔ان سب باتوں کو مدنظر رکھنے سے عمارت کی پختگی اور خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔بنیادیں اتنی گہری اور ان میں R۔C۔C کی ایسی مقدار استعمال کی گئی ہے کہ دوسری منزل اس عمارت پر کسی وقت بھی تعمیر ہو سکتی ہے۔موجودہ عمارت میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ پچاس ہزار کتب بآسانی رکھی جاسکیں اور ان کے انتظام کے لئے ضروری عملہ اور متعلقہ افراد اپنے فرائض کو عمدگی سے انجام دے سکیں۔عمارت کی مغربی جانب مزید پچاس ہزار کتب کے لئے جگہ ریز رو ہے اور جب لا کھ کتب سے