تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 48 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 48

تاریخ احمدیت۔جلد 27 48 سال 1971ء حضور کو یہ سن کو انتہائی خوشی ہوگی کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور اپنے فضل و کرم سے محمودہ کو ایک بہت ہی پیاری بچی عطا فرمائی ہے۔میرا ایمان ہے کہ یہ حض حضور پرنور کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ورنہ جرمنی کے چار سپیشلسٹ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ محمودہ کے ہاں بچہ ہونا ننانوے فیصد مشکل ہے بلکہ وہ یہ ناممکن سمجھتے ہوئے ذاتی صحت کے لئے ایک آپریشن ضروری قرار دے رہے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ اس آپریشن کے بعد بچہ کی جو ایک فیصد امید ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔لیکن آپریشن کرنا بھی محمودہ کیلئے ضروری ہے۔چنانچہ گذشتہ سال تو ہم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آپریشن کروا دیا جائے۔چنانچہ اس آپریشن کی اجازت کے لئے حضور کی خدمت میں لکھا لیکن حضور نے آپریشن کی اجازت نہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ میں دعا کروں گا اور چھ ماہ تک آپریشن نہ کروایا جائے۔چنانچہ آج حضور کی دعاؤں کے نتیجہ میں شادی کے پورے دس سال بعد خدا تعالیٰ نے ہمارے خاندان کو اس خوشی سے نوازا ہے۔گزشتہ دنوں میں جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو حضور نے بچی کا نام ”خوله تجویز فرمایا تھا جبکہ ابھی بچی پیدا نہیں ہوئی تھی۔قدرتی طور پر لوگوں میں لڑکے کے لئے خواہش ہوتی ہے لیکن اُس روز سے خدا تعالیٰ نے میرے دل میں بچی کی خواہش کو اس قدر زیادہ کر دیا تھا کہ خولہ“ نام رکھنے کے ساتھ حضور نے اس کی تربیت پر جو شرط لگائی تھی ، دلی خواہش تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تو حضور کی اس خواہش کو پورا کرنے کی پوری کوشش کروں گا“۔اس مکتوب کے قریباً دو ہفتہ بعد ۲۱ جون کو جناب مسعود احمد صاحب جہلمی انچارج مشن کی طرف سے حضور کی خدمت اقدس میں حسب ذیل تار موصول ہوا۔"Alhamdolillah fruit of Huzoor's prayers Luqman born Both healthy۔Prayers Requested"۔ترجمہ : الحمد للہ حضور اقدس کی دعاؤں کا ثمر لقمان کی پیدائش کی صورت میں مل گیا ہے۔ماں بچہ صحتمند ہیں۔درخواست دعا ہے۔51 یہ دونوں نشان نہ صرف جماعت جرمنی بلکہ سب احباب جماعت کیلئے از دیاد ایمان و عرفان کا موجب بنے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا تربیتی کلاس سے خطا مورخہ ۱۰ جون ۱۹۷۱ء کو بعد نماز عصر ایوان محمو در بوہ میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے