تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 45 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 45

تاریخ احمدیت۔جلد 27 45 سال 1971ء نظر نے آپ کو جماعت احمدیہ کے آرگن روز نامہ الفضل کی ادارت کے لئے چن لیا چنانچہ آپ سیالکوٹ سے ہجرت کر کے قادیان آگئے اور ۱۶ / اکتوبر ۱۹۴۶ء سے بطور رایڈیٹر الفضل کام کرنے لگے۔اس اہم اور نازک ذمہ داری کو آپ نے مسلسل ۲۵ برس یعنی اپریل ۱۹۷۱ء کے آخر تک نہایت احسن رنگ میں نبھایا۔اس اثناء میں جماعت احمدیہ پر ہجرت قادیان ۱۹۴۷ء اور فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء جیسے نازک وقت آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر موقع پر جماعت احمدیہ کی بہترین ترجمانی کرنے کی توفیق بخشی۔آپ کے قلم سے متعدد ایسے قیمتی اور اہم مضامین اور اشعار نکلے جو خدا کے خاص تائید و نصرت کے مظہر معلوم ہوتے تھے۔49 آپ کے اعزاز میں سے جون ۱۹۷۱ء کو دفتر الفضل کی طرف سے مولانا قاضی محمد نذیر صاحب کی صدارت میں ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔جناب مسعود احمد خانصاحب دہلوی ایڈیٹر الفضل نے الوداعی ایڈریس پڑھا جس میں آپ کے ۲۵ سالہ قلمی جہاد پر خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا:۔محترم تنویر صاحب کی خوش بختی اور خوش نصیبی اس لحاظ سے قابل رشک ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے ماتحت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے آرگن روز نامہ ”الفضل“ کی ادارت کی ذمہ داریاں مسلسل پچیس سال تک نہایت عمدگی اور خوش اسلوبی اور نیک نامی کے ساتھ سرانجام دینے کی توفیق ملی۔آپ ۱۹۴۰ء میں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔اس لحاظ سے گو آپ دیر سے آئے لیکن بتوفیق الہی قریب ربع صدی تک سلسلہ کی گراں بہا خدمات بجالا کر بہتوں سےسبقت لے گئے۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشند خدائے بخشنده ذلك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔آپ نے اس تمام عرصہ میں اپنے زور قلم ، وسیع علم ، مطالعہ اور تجربہ کی بدولت سلسلہ کی جو نہایت قابل قدر خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ احمدیت میں ہمیشہ یادگار رہیں گی اور آپ کے مسحور کن اداریے اور احمدیت کے عشق میں ڈوبے ہوئے حسین و جمیل منظوم افکار آپ کی یاد کو بھی محونہ ہونے دیں گے اور ہم ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلیں جب آپ کے ان اچھوتے مضامین اور پاکیزہ نظموں سے مستفیض ہوں گی تو وہ بھی آپ کی خوش بختی پر رشک کا اظہار کئے اور آپ کی یاد پر محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کئے بغیر نہ رہ سکیں گی۔دفتر الفضل کے کارکنان تو چونکہ ایک لمبا عرصہ تک آپ کے اوصاف کریمانہ سے براہ راست