تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 44
تاریخ احمدیت۔جلد 27 44 سال 1971ء جمعہ تک یہ بھی دور ہو جائے تو میں یہاں مسجد میں آکر جمعہ کی نماز پڑھاؤں۔کیونکہ میری طبیعت میں یہ حجاب ہے کہ میں کرسی پر بیٹھ کر مسجد میں نماز پڑھوں۔اللہ تعالیٰ نے جب یہ اجازت دی ہے کہ بیمار آدمی گھر میں نماز پڑھے تو میں اس اجازت سے فائدہ اٹھاتا ہوں لیکن مسجد میں آنا بھی چاہتا ہوں بڑا بے چین رہتا ہوں“۔46 شیخ روشن دین تنویر صاحب کے اعزاز میں الوداعی تقریب جماعت احمدیہ کے اس نامور صحافی، اعلیٰ درجہ کے مضمون نویس اور عظیم شاعر (ولادت ۲۰ اپریل ۱۸۹۲ء۔بیعت ۱۹۴۰ء۔وفات ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء) نے سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔آپ کے استادوں میں شمس العلماء مولانا سید میرحسن صاحب بھی تھے۔جن سے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال شاعر مشرق کو شرف تلمذ حاصل تھا۔۱۹۲۳ء میں لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور ۱۹۴۶ ء تک وکالت کرتے رہے۔آپ کو شروع سے ہی شعر و شاعری سے تعلق تھا اور آپ بلند علمی وادبی ذوق رکھتے تھے۔۱۹۲۱ء سے ۱۹۴۵ ء تک آپ کی متعد نظمیں ملک کے مشہور رسائل ( مثلاً نیرنگ خیال، ہمایوں، نگار اور ادبی دنیا وغیرہ ) میں شائع ہوئیں اور بہت پسند کی گئیں۔47 آپ پہلی مرتبہ ۱۹۳۹ء کے جلسہ جو بلی کے موقعہ پر قادیان دارالامان تشریف لے گئے اور نظام سلسلہ اور حضرت مصلح موعود کی بے مثال تقاریر سے بہت متاثر ہوئے۔بایں ہمہ پکے غیر احمدی رہے۔قادیان سے روانگی کے بعد ریل میں اتفاقاً ایک احمدی سے حضرت مصلح موعود کی تقریر انقلاب حقیقی کے مطالعہ کا موقع ملا۔اس کتاب نے ایسا فوری اثر دکھایا کہ آپ دل سے احمدی ہو گئے اور سیالکوٹ واپس پہنچ کر بیعت کا فارم پر کر دیا۔48 سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہونے سے پیشتر بھی بحیثیت شاعر آپ کو شہرت حاصل تھی مگر احمدیت کے نور سے منور ہونے کے بعد آپ کی نظم و نثر میں خاص جوش اور ولولہ آفرینی پیدا ہوگئی اور آپ کی علمی و قلمی صلاحیتیں سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف ہو گئیں اور آپ کا شعر وسخن کا فطرتی ذوق خالصتاً احمدیت کے رنگ میں رنگین ہو گیا۔جس کے بعد آپ نے متعدد محققانہ مضامین احمدیت کے علم کلام کی تائید میں لکھے جوسلسلہ کے جرائد میں اشاعت پذیر ہوئے۔بالآ خرسید نا حضرت مصلح موعود کی جو ہر شناس