تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 38 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 38

تاریخ احمدیت۔جلد 27 38 سال 1971ء قربانیوں کے تسلسل کو قائم رکھیں تو ۹۰ برس یا زیادہ سے زیادہ ۱۰۰ برس تک اسلام دنیا میں غالب آسکتا ہے۔فطرتی طور پر ہم یہی چاہتے ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں میں غلبہ اسلام کا دن دیکھ لیں۔حضور نے صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں سے خصوصی طور پر خطاب کرتے ہوئے انہیں نصیحت فرمائی کہ اگر وہ مرکز میں اخلاص کے ساتھ خدمت دین کرنے کے لئے مقیم ہیں تو ان کے چہروں پر بشاشت کے آثار ظاہر ہونے چاہئیں۔انہیں با اخلاق اور اسلامی شعار کا پابند ہونا چاہئیے اور ایسا نمونہ پیش کرنا چاہئیے جو اسلام اور احمدیت کی حقیقی روح کے مطابق ہو۔اس ضمن میں حضور نے فرمایا کہ مسلمان مردوں کے لئے داڑھی رکھنا اور عورتوں کے لیے پردہ اسلامی شعار میں شامل ہیں۔آخر میں حضور نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مرکز میں ہمیشہ ایسے کارکن عطافرما تارہے جو نیک نمونہ رکھنے والے ہوں اور اخلاص اور قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے والے اور مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کرنے والے ہوں۔43 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا مجلس انصار اللہ حلقہ دار الصدر شرقی سے بصیرت افروز خطاب ۲۴ مئی ۱۹۷۱ء کو سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مسجد مبارک ربوہ میں مجلس انصار اللہ حلقہ دار الصدر شرقی کے اجلاس سے بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں تین دعاؤں کی تحریک کرنا چاہتا تھا۔دیر سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔میں نے سمجھا یہ موقع ہے، چند منٹ کے لئے چلا جاؤں۔پہلی دعا کی تحریک اپنے ملک کے لئے دعا کی تحریک ہے۔دوسری دعا کی تحریک اپنی جماعت کے لئے دعا کی تحریک ہے اور تیسرے خاکسار نے خود اپنے لئے دعا کی تحریک کرنی ہے۔ہمارا ملک اس وقت پریشانی کے دور میں سے گذر رہا ہے۔فروری کے آخر میں جب میں اپنے ملک کے لئے بہت دعائیں کر رہا تھا تو اس وقت مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور دعاؤں ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو ٹالا جا سکتا ہے اس لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔۔۔ہمیں اس