تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 36 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 36

تاریخ احمدیت۔جلد 27 36 سال 1971ء یا درکھیں کہ یہ ڈگریاں ہماری زندگیوں کا اصل مقصد نہیں ہیں۔اگر ہمارا نقطہ نظر صحیح اور صالح ہو تو یہی ڈگریاں ایک اعلیٰ اور ارفع مقصد کی حامل بھی ہو سکتی ہیں۔جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مکان کی کھڑ کی رکھنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روشنی آئے لیکن اگر روشنی کا حصول ایک ضمنی مقصد ہو اور اصل مقصد یہ ہو کہ اذان کی آواز آئے تو اینٹوں گارے کی بنی ہوئی ایک بے جان کھڑکی ہمارے اعلیٰ مقصد کا حصہ بن جاتی ہے۔پس ان ڈگریوں کو اس طرح حاصل کریں اور ان کو اس رنگ میں استعمال کریں کہ کاغذ کے یہ پرزے آپ کی روح کی غذا اور آخرت کی سند بن جائیں۔ڈگریاں تو ہزاروں لاکھوں طالبات نے نہ صرف جامعہ پنجاب بلکہ دنیا کی دوسری یو نیورسٹیوں سے بھی حاصل کی ہوں گی مگر حاصل لطف و راحت تو یہ ہے کہ ان ڈگریوں پر رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کی مہر کے ساتھ ساتھ رضائے الہی کی مہر بھی ثبت ہو۔یہ ڈگریاں جبھی مبارک ڈگریاں ہوں گی اگر یہ اپنی ذات میں اپنا مقصد آپ بن کر نہ رہ جائیں۔بلکہ یہ ڈگریاں ذریعہ ہوں، ایک وسیلہ ہوں، ایک قدم ہوں، ان منازل کی طرف جن منزلوں کی خاطر اسلام کی غیور بیبیوں اور بزرگ ماؤں نے اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں حج کر پایا تھا۔آپ کے ہاتھ میں صداقت، طہارت، سادگی، صفائی، نیکی، عجز اور اخلاص کی تلوار ہو۔مغرب زدہ نہ ہوں بلکہ مغرب کے آثار منہدم کرنے والی ہوں۔آپ خود میں جب یہ صلاحیت پیدا کریں گی تو آئندہ زندگی میں تربیت دینے کا وصف بھی آپ میں پیدا ہو جائے گا۔خود نیک ہوں کل اپنے گھروں میں نیک فضا پیدا کرنے والی اولاد کی صحیح تربیت کرنے والی ہوں اللہ تعالیٰ ہر آن آپ کے ساتھ ہو۔آمین 41 فسادات ۱۹۷۱ء میں تین احمدیوں کی جانی قربانی ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان (جو ان قیامت خیز ہنگاموں کے بعد ”بنگلہ دیش کے نام سے معرض وجود میں آیا ) میں قیامت خیز ہنگامے ہوئے جس کے نتیجہ میں کروڑوں کی ملکی جائیدادیں تباہ و برباد ہوئیں وہاں ہزاروں بے گناہ قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ان قیامت خیز فسادات کے دوران میمن سنگھ میں حسب ذیل تین احمدی بھائی بھی شہید ہوئے: (۱) بدیع الزمان صاحب مولکھیری (۱/۱۸ پریل)