تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 35
تاریخ احمدیت۔جلد 27 35 سال 1971ء ہمارا رویہ نو جوانوں کے متعلق منفی نہیں بلکہ مثبت ہونا چاہیے۔جب انہیں زندہ ایمان و یقین حاصل ہو جائے گا تو پھر وہ نہ مغرب کی اندھی تقلید کریں گے اور نہ مشرق کی بلکہ وہ اسلام کی تقلید کریں گے اور ان کی تقلید علی وجہ البصیرت ہوگی“۔سوم : "رشتہ ناطہ میں مشکلات کی بہت سی وجوہ ہیں مثلاً ایک وجہ یہ ہے کہ لڑکا یا لڑکی زیادہ پڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کے خاندانوں میں ان کا کفو نظر نہیں آتا۔حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی ہے کہ رشتہ خاندان کے کفو میں کرو۔دوسری وجہ یہ ہے کہ دعا کی نسبت عقل پر زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے حالانکہ رشتہ ناطہ کے سلسلہ میں حقیقی انشراح دعا سے ہی مومن کو حاصل ہو سکتا ہے۔پھر بعض لوگ اس معاملہ میں پیسے کو ترجیح دے دیتے ہیں کہ رشتہ ایسی جگہ ہو جو پیسے والے ہوں حالانکہ اگر لڑکے اور لڑکی کے باقی حالات درست نہیں ہیں اور ان کی وجہ سے وہ خوش نہیں رہ سکتے تو محض پیسے کو لے کر کیا کرنا ہے۔پس پیسے کا سوال بھی بعض اوقات موزوں رشتہ ڈھونڈنے میں روک بن جاتا ہے اور اس سوال کو درمیان میں لا کر خود کئی ماں باپ اچھے بھلے رشتوں کو خراب کر دیتے ہیں۔جماعت کے دوستوں کو ان سب باتوں سے بچنا اور ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔40 جامعہ نصرت ربوہ کا جلسہ تقسیم اسناد و انعامات ۱۸ / اپریل ۱۹۷۱ء بروز اتوار لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں جامعہ نصرت ربوہ کا نواں جلسہ تقسیم اسناد و انعامات منعقد ہوا۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے مبارک ہاتھوں سے انعامات تقسیم فرمائے تقسیم انعامات کے بعد حضرت سیدہ موصوفہ نے صدارتی خطبہ ارشادفرمایا۔صدارتی خطاب آپ نے فرمایا کہ میں نے جامعہ نصرت ربوہ کی سالانہ رپورٹ دلی امتنان ومسرت کے جذبات کے ساتھ سنی۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس سے ہزار گنا بڑھ کر کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے اور یہ ادارہ حقیقی معنوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کا واحد اور مثالی ادارہ بن جائے۔