تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 34
تاریخ احمدیت۔جلد 27 34 سال 1971ء رقم کے اخراجات پر مشتمل تینوں بجٹ منظور فرمائے جن کی تفصیل یہ ہے۔ا۔بجٹ صدر انجمن احمدیہ ۰۱،۶۵۷، ۵۳ روپے ۲۔بجٹ تحریک جدید انجمن احمد یہ ۵۷،۹۸،۰۰۰ روپے ۳۔بجٹ وقف جدید کل میزان ۰۰۰ ،۶۵، ۲ روپے ۶۵۷، ۶۴، ۱۳ ، ۱ روپے حضور نے ایجنڈے کی تجاویز اور سب کمیٹی صدر انجمن احمدیہ کی سفارشات پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جو بیش قیمت نصائح نمائندگان جماعت کو فرما ئیں ان میں سے نمونۂ تین کا ذکر کیا جاتا ہے۔فرمایا: اول :۔” نہ صرف پشتو اور سندھی میں بلکہ دنیا کی تمام اہم زبانوں میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے تراجم کا انتظام کرنا چاہیے کیونکہ حضور نے اپنی کتب میں قرآن مجید کے جو معارف و حقائق بیان فرمائے ہیں ان میں (۱) موجودہ زمانہ کے مسائل کو سلجھانے کا مواد موجود ہے۔(۲) حضور علیہ السلام نے قرآنی آیات کی تفسیر اس نہج سے فرمائی ہے کہ آپ کی تفسیر کو آگے چلا کر آئندہ پیش آنے والے مسائل کو بھی حل کیا جا سکتا ہے“۔دوم :۔”ہمارے لئے صرف مغرب کی اندھی تقلید ہی مضر نہیں بلکہ مشرق کی اندھی تقلید بھی ضرر رساں ہے۔بنیادی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو علی وجہ البصیرت ایمان پر قائم کریں۔انہیں اسلام کی حسین تعلیم کا علم دیں تا کہ وہ بشاشت کے ساتھ اس پر عمل کریں اور اندھی تقلید نہ مغرب کی کریں نہ مشرق کی۔حتی کہ وہ قرآن اور اسلام کی تعلیم کی بھی اندھی تقلید نہ کریں بلکہ ان کی یہ تقلید علی وجہ البصیرت ہو۔اس سلسلہ میں نوجوانوں کے ذہنوں میں جو خیالات اور سوالات پیدا ہوتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کا ایسے رنگ میں جواب دیں جس سے وہ پوری طرح مطمئن ہو جائیں۔یاد رکھو کہ سوال کرنا انسان کو کافر نہیں بناتا بلکہ بسا اوقات سوال کا غلط جواب اسے کا فر بنا دیتا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی صحیح راہنمائی کریں تا کہ انہیں علی وجہ البصیرت ایمان ویقین حاصل ہو۔