تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 33
تاریخ احمدیت۔جلد 27 33 سال 1971ء بشاش تھے اور اپنے خدام سے باتیں کر کے خاص خوشی اور مسرت محسوس فرمارہے تھے اور چہرہ مبارک اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوشی سے تمتما رہا تھا۔آخر میں حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔39 مجلس مشاورت ۱۹۷۱ء اس سال جماعت احمدیہ پاکستان کی مجلس مشاورت ۲۶۔۲۷ - ۲۸ مارچ ۱۹۷۱ء کو بمقام ایوان محمود منعقد ہوئی جس میں پانچ صد سے زائد نمائندگان ، کثیر التعداد مقامی زائرین اور بیرونجات سے تشریف لانے والے مہمانوں کو شمولیت کی توفیق ملی۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے افتتاحی خطاب میں بتایا کہ اس وقت انسانیت ایک بڑے نازک دور میں سے گذر رہی ہے اور ہمارا ملک بھی۔احباب جماعت کو بنی نوع انسان بالخصوص پاکستان کی سالمیت استحکام اور اس کی حفاظت کے لئے خصوصی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ صرف احمدی ہی ہیں جو ہر آن اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دیکھتے اور اس کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور علی وجہ البصیرت دعا کر سکتے ہیں۔افتتاحی خطاب کے بعد حضور نے حسب ذیل کمیٹیوں کی تشکیل فرمائی۔ا۔سب کمیٹی صدر انجمن احمدیہ (صدر) عبد الجلیل صاحب عشرت لا ہور ۲۔سٹینڈنگ سب کمیٹی زراعت (صدر ) چوہدری ادریس نصر اللہ خان صاحب ایڈووکیٹ لاہور ۳۔سٹینڈنگ سب کمیٹی صنعتی تعلقات (صدر ) ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ۴۔سب کمیٹی تحریک جدید و وقف جدید (لاہور) چوہدری انورحسین صاحب امیر جماعت احمد یہ ضلع شیخو پورہ۔حضور کی طبیعت ۲۱ جنوری ۱۹۷۱ء کو گھوڑے سے گرنے کے باعث علیل تھی اور ڈاکٹروں نے آرام کرنے کی تاکید کر رکھی تھی اور درخواست کی کہ ایک وقت میں صرف نصف گھنٹہ سے ایک گھنٹہ تک بیٹھنا مناسب ہوگا۔اس صورتحال کے باوجود حضور نے شوری کے چاروں اجلاسوں میں صدارت کے فرائض سرانجام دیئے اور اپنے بصیرت افروز خطابات کے علاوہ نمائندگان کرام کو بیش قیمت نصائح اور روح پرور ارشادات اور کلمات طیبات سے نوازا اور ایجنڈے میں درج شدہ ۹ تربیتی ، اصلاحی اور مالی امور پر فیصلے صادر فرمائے اور مجموعی طور پر ایک کروڑ ۱۳ لاکھ ۶۴ ہزار ۶ سو ۷ ۵ روپے کی آمد اور اتنی ہی