تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 32 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 32

تاریخ احمدیت۔جلد 27 32 سال 1971ء حضور کی علالت کے پیش نظر خاصے طویل عرصہ سے احباب جماعت اپنے پیارے آقا کی زیارت اور ارشادات سے مستفیض نہ ہو سکے تھے۔محرومی کے اس خاصے طویل عرصہ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ احباب کو اپنے آقا کی زیارت کا شرف حاصل ہو رہا تھا۔اس لئے احباب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا اور حضور بھی اپنے خدام سے مل کر بے حد مسرور نظر آرہے تھے۔یہ ایک عجیب پر نورو پر سرور محفل تھی۔شمع کے گرد پروانوں کی طرح سب احباب اپنے آقا کے گرد جمع تھے اور کمال محویت کے عالم میں حضور کے ارشادات سے فیضیاب ہورہے تھے۔اس تقریب میں صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے ناظر ووکلاء صاحبان، افسران صیغہ جات، تعلیمی اداروں کے بعض اساتذہ، مبشرین احمدیت اور ربوہ میں تعلیم حاصل کرنے والے مغربی افریقہ کے طلباء کے علاوہ بیرونی جماعتوں کے امراء کو بھی مدعو کیا گیا تھا چنانچہ جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع لائلپور، چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعتہائے احمدیہ ضلع لاہور، شیخ بشیر احمد صاحب سابق حج ہائیکورٹ لاہور ، چوہدری انور حسین صاحب امیر جماعتہائے احمدیہ ضلع شیخو پورہ ، میاں بشیر احمد صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع جھنگ، حاجی محمد یعقوب صاحب امیر جماعت احمد یہ سیالکوٹ ، ڈاکٹر عبدالحق صاحب ڈینٹل سرجن لا ہور اور بعض دیگر احباب نے اس موقع پر ربوہ پہنچ کر اس خصوصی تقریب میں شرکت فرمائی۔نماز عصر کے بعد جب سب احباب قصر خلافت کے عقبی صحن میں ایک نظام کے ماتحت آ جمع ہوئے تو حضور انور ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کے ساتھ قصر خلافت سے باہر تشریف لائے اور صدر جگہ پر رونق افروز ہونے کے بعد مغربی افریقہ جانے والے ڈاکٹر صاحبان اور بیرونجات سے آئے ہوئے احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔اس کے بعد جملہ مہمانوں کو اردگرد دور تک لگی ہوئی میزوں پر حضور کی معیت میں چائے نوش کرنے کا خصوصی شرف حاصل ہوا۔حضور دیر تک ڈاکٹر صاحبان کو ہدایات سے نوازتے رہے نیز حضور نے تحدیث نعمت کے طور پر مجلس نصرت جہاں کے پروگرام آگے بڑھو‘ کے تحت ہونے والے کام اور اس کے خوشکن نتائج کا بھی ذکر فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے خاص منشاء اور القاء کے ماتحت یہ پروگرام جاری کیا گیا ہے، اپنے فضل سے اس میں غیر معمولی برکت ڈال رہا ہے اور اپنی تائید و نصرت سے مسلسل نواز رہا ہے۔یہ پرنور و پر سرور محفل ایک گھنٹہ سے زائد عرصہ تک جاری رہی۔حضور طبیعت کی ناسازی کے باوجود بحمد اللہ تعالیٰ بہت ہشاش