تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 31 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 31

تاریخ احمدیت۔جلد 27 31 سال 1971ء ساہیوال پر مخالفین احمدیت کی طرف سے ایک جھوٹا مقدمہ قائم کر کے سخت طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا۔یہ ایک سخت ابتلا تھا اور بہت بھاری آزمائش جس کے دوران آپ نے صبر و ثبات اور رضا بالقضاء کا بہترین نمونہ دکھا یا بالآخر خدا کے فضل اور خلیفہ وقت اور بزرگوں کی دعاؤں کی برکت سے آپ اس مقدمہ سے باعزت طور پر بری ہوئے۔چوہدری صاحب اس دور ابتلاء کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح کے مجھ پر اس قدر احسانات ہیں کہ میں ان کے شمار سے بھی قاصر ہوں۔آپ نے از راہ ذرہ نوازی مجھے محبت بھرا خط لکھا اور فرمایا کہ ” خدائے رحمان سے، خدائے غفار سے دعا کر رہا ہوں رحمت کی امید رکھیں“۔اور بالآخر آپ کی دعائیں رنگ لائیں اور خدائے رحمان اور خدائے غفار نے مجھے باعزت بری کیا نہ صرف یہ بلکہ اس قادر و توانا خدا نے اپنے پیارے خلیفہ کو پہلے سے میری بریت سے بھی مطلع فرما دیا۔چنانچہ ایک بار جبکہ میرے بھائی عزیز نصیر احمد اور میری اہلیہ محترمہ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر التجا کی کہ حضور دعا کریں کہ ضمانت ہو جائے تو حضور نے فرمایا ضمانت کا تو ہمیں خیال بھی نہیں آیا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی ہے کہ بری کر دیئے گئے۔چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔فالحمد للہ علی ذالک اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور خلافت احمدیہ کی حقانیت اور دائمی برکات کی ایک زندہ مثال ہے۔چه غم داری داری چه خدا داری 38 مغربی افریقہ جانے والے ڈاکٹرز کے اعزاز میں الوداعی تقریب مجلس نصرت جہاں کی طرف سے ۱۳ مارچ ۱۹۷۱ء بعد نماز عصر اُن تیرہ مشنری ڈاکٹر صاحبان کے اعزاز میں وسیع پیمانہ پر الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا جو نصرت جہاں کے پروگرام ” آگے بڑھو کے زیر اہتمام طبی خدمات بجالانے کی غرض سے عنقریب مغربی افریقہ روانہ ہونے والے تھے۔وسیع پیمانہ پر منعقد ہونے والی اس تقریب کا اہتمام قصر خلافت کے عقبی صحن میں کیا گیا تھا اس میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بھی ازراہ شفقت شرکت فرمائی۔اُس روز حضور کی طبیعت کمر کے نچلے حصہ میں درد اور ہلکے چکروں کی تکلیف کے باعث کسی قدر ناساز تھی۔اس کے باوجود حضور کمال درجہ شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے اس تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔