تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلد 27 30 سال 1971ء پروفیسر عبد السلام سے کوئی مفید کام نہ لے سکا تو وہ اپنے لئے امپریل کالج کے دروازے ہر وقت کھلے پائیں گے۔ان کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی۔۱۹۵۴ء میں پروفیسر عبدالسلام کو کیمبرج یونیورسٹی میں حساب کے لیکچرر کی حیثیت سے کام کرنے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے قبول کر لی۔۱۹۵۷ء میں انہیں پروفیسر لیوی کی جگہ شعبہ علم الحساب کا صدر مقرر کیا گیا۔پروفیسر عبد السلام نے ابتدا اپنی پوری توجہ کو اٹم تھیوری آف فیلڈز پر مرکوز رکھی۔اس کے بعد وہ ایلی منٹری پارٹیکلز کی طرف متوجہ ہوئے۔علم الطبیعات کے ان دونوں میدانوں میں انہوں نے قابل قدر اور گراں مایہ تحقیقی کام کیا۔پروفیسر عبد السلام مختلف ملکوں کا دورہ کر چکے ہیں اور وہاں کے سائنسدانوں کے اجتماعات میں طبیعات کے متعلق بڑے پر مغز لیکچر دے چکے ہیں۔ان کا شمار طبیعات کے چند گنے چنے سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔۱۹۵۸ء کے اوائل میں پنجاب یونیورسٹی نے ان کی قابل قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری عطا کی۔۱۹۵۸ء میں کیمبرج فلاسفیکل سوسائٹی نے انہیں ہاپکنز انعام دیا ( یہ انعام نوبل انعام یافتہ سائنسدان سر فریڈرک با پکنز Sir Frederick Hopkins ولادت ۶۱ ۱۸ ء وفات ۱۹۴۷ء کے نام سے منسوب ہے)۔یہ انعام ہر تین سال میں علم الحساب اور طبیعات کے میدان میں بہترین نظری کام کرنے کے سلسلہ میں دیا جاتا ہے۔اب تک جن ممتاز سائنسدانوں کو یہ انعام ملا ہے ان میں پروفیسر بلیکٹ اور سر جان کاک کرافٹ کے علاوہ چار اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی شامل ہیں۔اگست ۱۹۶۱ء میں انہیں صدر پاکستان کا مشیر علی برائے سائنسی اور مقرر کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی قبولیت دعا کا ایک نشان جماعت احمد یہ عالمگیر کے احباب کو اس بات کا بخوبی تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قائم کردہ خلفاء کی دعاؤں کو بکثرت شرف قبولیت بخشتا ہے اور اس طرح احباب جماعت کے ایمان و عرفان میں ترقی کا سامان کرتا رہتا ہے۔امر واقعہ تو یہ ہے کہ خلفاء کرام کی قبولیت دعا کے واقعات سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تک پہنچے ہوئے ہیں۔اس لئے ہر ایک کا ذکر کرنا تو ممکن نہیں ہو سکتا لیکن بعض واقعات اپنی اہمیت کے اعتبار سے بیان کر دیئے جاتے ہیں چنانچہ ایک ایسا ہی واقعہ پیش خدمت ہے۔یہ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ اس سال چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ امیر جماعت احمدیہ ضلع