تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 29
تاریخ احمدیت۔جلد 27 29 سال 1971ء پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا نیا اعزاز اس سال کے آغاز میں پاکستان کے شہرہ آفاق سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو روس کی اکیڈمی آف سائنسز (Academy of Sciences) نے اپنا غیر ملکی رکن منتخب کیا جو ایک نیا اور قابل فخر عالمی اعزاز تھا۔چنانچہ پاکستان کے مشہور اخبار امروز (لاہور) نے اپنی ۲ مارچ ۱۹۷۶ء کی اشاعت میں لکھا:۔نامور پاکستانی سائنسدان پروفیسر عبد السلام کو روس کی اکیڈمی آف سائنسز نے اپنا غیر ملکی رکن منتخب کیا ہے۔موصوف کو اس سے پہلے کئی دوسرے ملکوں کے سائنسی اداروں کی رکنیت کا اعزاز حاصل ہے۔آپ نظری طبیعات کے بین الاقوامی ادارہ (ٹریسٹ۔اٹلی ) کے صدر رہ چکے ہیں۔امپیریل کالج لنڈن سے ان کی وابستگی خاصی دیرینہ ہے۔وہ اس شہرہ آفاق درسگاہ میں نظری طبیعیات کے پروفیسر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے آئے ہیں۔ڈاکٹر عبدالسلام پہلے ایشیائی اور دولت مشترکہ کے کسی ملک کے پہلے اور واحد سائنسدان ہیں جنہیں برطانیہ کی کسی یونیورسٹی میں سائنسی فیکلٹی کا صدر مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔پروفیسر رادھا کشن (سابق صدر ہند ) کو ایک زمانہ میں آکسفورڈ یو نیورسٹی میں یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔لیکن وہ ہندوستانی فلسفہ کے شعبہ کے صدر تھے۔پروفیسر عبد السلام ۱۹۲۶ء میں جھنگ میں پیدا ہوئے۔پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لیں۔وہ میٹرک سے لے کر ایم اے تک ہر امتحان میں اول آتے رہے۔۱۹۴۴ء میں انہوں نے بی اے کے امتحان میں ریکارڈ قائم کیا جو ابھی تک کسی نے نہیں تو ڑا۔۱۹۴۶ء میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کرنے کے صلے میں انہیں حکومت کی طرف سے وظیفہ ملا اور وہ اعلیٰ م کیلئے کیمبرج (انگلستان) چلے گئے جہاں انہوں نے ۱۹۴۸ء میں ریاضی اور ۱۹۴۹ء میں طبیعات کے امتحانات اعزاز کے ساتھ پاس کئے تعلیمی قابلیت اور ذہانت کے پیش نظر انہیں سینٹ جان کیمبرج اور پریسٹن امریکہ کے تحقیقی ادارے کا فیلو مقرر کر لیا گیا۔۱۹۵۱ء میں وہ واپس پاکستان آئے تو انہیں گورنمنٹ کالج کے شعبہ حساب کا صدر اور اس سے اگلے سال پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کا صدر مقرر کیا گیا۔۱۹۴۹ء میں جب پروفیسر عبدالسلام کیمبرج سے روانہ ہونے لگے تو امپریل کالج لنڈن کے شعبہ حساب وطبیعات کے صدر پروفیسر لیوی نے پیشگوئی کی تھی کہ اگر پاکستان