تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 26
تاریخ احمدیت۔جلد 27 26 سال 1971ء شرکت کی۔ان میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سیکرٹری ایجوکیشن ڈویژنل سیکرٹری منا، دیگر اعلیٰ سرکاری حکام اور چرچ کے سر بر آوردہ نمائندے شامل تھے۔30 احمد یہ سیکنڈری سکول پائسن (Potsin) غانا اس سکول کی بنیاد جون ۱۹۷۱ء میں ایک شاندار تقریب کے دوران رکھی گئی جس میں پیراماؤنٹ چیف سمیت ایک ہزار افراد شامل تھے۔اس موقع پر مولانا بشارت احمد صاحب بشیر نے مسلمانوں کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ مسلمانوں نے بغداد اور سپین میں عظیم الشان یو نیورسٹیاں قائم کیں۔ابن رشد اور بوعلی سینا جیسے ممتاز مسلم سائنسدانوں کا فلسفہ اب تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔حاضرین اس خطاب سے بہت متاثر ہوئے۔31 ۴۔احمد یہ سیکنڈری سکول سلا گا۔غانا نصرت جہاں اسکیم کے تحت غانا میں تیسرے احمد یہ سیکنڈری سکول کا باضابطہ افتتاح سلاگا نامی قصبہ میں ۲۶ ستمبر ۱۹۷۱ کو عمل میں آیا۔سکول میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد ۱۱۳ تھی جنہیں ۵ اساتذہ تعلیم دینے پر مقرر تھے۔سکول کے ہیڈ ماسٹر مکرم محمد اشرف صاحب چوہدری پاکستان سے یکم را کتوبر کو غانا پہنچے۔امیر جماعتہائے احمدیہ غانا و مبلغ انچارج غانا مشن مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے سکول کی شایان شان عمارت کی تعمیر کے لئے ہیں ایکٹر رقبہ کا ایک قطعہ زمین منتخب کیا 32۔۵۔نصرت سینئر سیکنڈری سکول بانجل۔گیمبیا ۴ مئی ۱۹۷۰ء کو سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے دست مبارک سے نصرت ہائی سکول بانجل کا سنگ بنیاد رکھا جو نصرت جہاں سکیم کے تحت گیمبیا میں قائم ہونے والا پہلا سکول تھا۔اس کی کلاسیں اسی سال شروع ہو گئیں مگر اس کا باضابطہ افتتاح وسط اکتو بر ۱۹۷۱ء میں ہوا جس کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع ۱۹۷۱ء کے موقع پر فرمایا کہ:۔اب گیمبیا سے اطلاع آئی ہے کہ وہاں ہمارے سکول کا افتتاح ہو گیا ہے وہاں سے یہ بھی اطلاع آئی ہے کہ وہاں کا جوسب سے بڑا یعنی لاٹ پادری ہے اس نے