تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 306 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 306

تاریخ احمدیت۔جلد 27 306 سال 1971ء قریب مزید افراد حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ۳۰، ۴۰ را فراد پر مشتمل ایک جماعت قائم ہے۔قصبہ اکیروں میں جماعت کا قیام حضرت خلیفہ المسیح کے دورے کے نتیجے میں جس آسمانی بارش کا نزول ہوا اس کے چھینٹے ملک کے گوشہ ہائے دور دراز میں بھی پڑے چنانچہ بعض ایسے مقامات پر بڑی بڑی جماعتیں قائم ہوگئیں جہاں پہلے ایک یا دو افراد موجود تھے۔اس کی مثال اوسن ڈویژن Osun Division کے ایک قصبہ اکیروں Ikirun میں ملتی ہے۔یہاں کچھ عرصہ سے بادان جماعت کا تربیت یافتہ ایک نوجوان مسٹر داؤ دابوری شادے Daud Abori Shade ملازمت کے سلسلے میں تبدیل ہو کر آیا ہوا تھا۔جب حضرت صاحب کے دورہ کا چرچا اخبارات، ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ ملک بھر میں ہونے لگا تو لوگ احمدیت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے اس نوجوان کے پاس پہنچے۔جب لوگوں کی دلچسپی بڑھی تو اس نے اباد ان کی جماعت کو لکھا کہ آپ یہاں تبلیغی کا نفرنس کا انعقاد کریں۔ابادان کی بیدار مغز جماعت نے فورا ہی اسے تائید غیبی سمجھتے ہوئے ایک تبلیغی پارٹی تیار کی ساتھ ہی خاکسارکو بھی اس پروگرام سے مطلع کر دیا۔چنانچہ ۲۰ را فراد کا ایک قافلہ پریذیڈنٹ جماعت ابادان مسٹر بساری Mr۔Busaari کی سرکردگی میں تبلیغی کیل کانٹے سے لیس ہوکر ا کیروں پہنچا۔شہر میں داخل ہوتے ہی موٹر میں دوطرفہ نصب کئے ہوئے لاؤڈ سپیکر صل علی نبینا صل علی محمد کے الفاظ سریلی آواز میں بلند کرنے لگے۔غالباً یہ پہلی بارتھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں اس قسم کے عربی الفاظ اہل شہر کے کانوں میں پڑے۔دیکھتے ہی دیکھتے ایک بہت بڑا مجمع موٹر کے دونوں طرف ہولیا۔موٹر آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور یہ جم غفیر صلی علی۔۔۔کی مسحور کن آواز کے ساتھ خود بھی شامل ہو گیا۔یہ دلر با کیفیت اس وقت تک جاری رہی جب تک کہ قافلہ پہلے سے تیار شدہ پنڈال میں نہ پہنچ گیا۔آن کی آن میں سارا پنڈال کھچا کھچ بھر گیا۔شہر کے رؤساء بھی اچھی خاصی کافی تعداد میں شامل ہوئے۔جب تقریر میں شروع ہو ئیں تو حاضرین کی تعداد ۴۰۰ سے کسی طرح کم نہ تھی۔کل تین تقریریں ہوئیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کو نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ختم نبوت کے متعلق جماعت احمدیہ کا موقف اچھی طرح واضح کیا گیا۔حاضرین نے