تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 301
تاریخ احمدیت۔جلد 27 301 سال 1971ء میں بھی اشتہار دیا گیا۔علاوہ ازیں بڑے سائز کے پوسٹر بھی چھپوائے گئے ہیں۔طلباء سے بھی مؤثر طریقہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے کالج کی ترقی میں بھر پور تعاون کا مظاہرہ کریں۔دوران ماہ حال فیس کی وصولی کی مد میں بارہ صدرو پی جمع ہوا۔119 ۱۷ دسمبر کو تعلیم الاسلام احمدیہ کالج کی سالانہ تقریب انعامات منعقد ہوئی جس میں دیگر مہمانوں کے علاوہ پاکستانی ہائی کمشنر کے تھر ڈسیکرٹری جناب مطیع الرحمن صاحب نے شرکت کی۔وزارت تعلیم ماریشس کے سینئر آفیسر مسٹر کلفر ڈبیل نے انعامات تقسیم کئے اور صدارتی خطاب میں کالج کے نصب العین اور اس کی علمی مساعی کو سراہا۔اسی دن نیروبی سے بذریعہ ٹیلیگرام یہ تشویشناک اطلاع ملی کہ در ویشان قادیان دار الامان کو دار اسیح سے نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے جس پر جماعت احمد یہ ماریشس نے ایک اجتماعی ریز ولیوشن منظور کر کے بذریعہ تار حکومت ہند کو بھیجا جس میں جماعت احمدیہ کے دائمی مرکز قادیان کے تحفظ اور درویشوں کے حقوق شہریت کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ موجودہ اقدام کو جلد سے جلد ختم کیا جائے۔علاوہ ازیں جماعت کے ایک وفد نے انڈین ہائی کمشنر سے بھی ملاقات کی انہوں نے اپنی حکومت کو تار بھیج کر معاملے کی وضاحت کرانے کا وعدہ کیا۔دو تین روز بعد انہوں نے جماعت کو مطلع کیا کہ قادیان میں سب خیریت ہے کوئی فکر کی بات نہیں بعد ازاں حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل جٹ امیر جماعت قادیان کا مکتوب بھی موصول ہو گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ گو جنگ کے ایام میں حالات سخت مخدوش ہو گئے تھے مگر پاک بھارت جنگ ختم ہونے کے بعد اب حالات معمول پر آگئے ہیں۔۱۸دسمبر سے ۲۳ دسمبر تک تعلیم القرآن کلاس کا انعقاد ہوا۔جس میں مولوی صدیق احمد صاحب منور نے حدیث اور فقہ کے بنیادی مسائل سکھائے۔کلاس میں انصار، خدام اور اطفال نے ذوق و شوق سے حصہ لیا۔ہفتہ اخوت پروگرام کے سلسلہ میں قریشی محمد اسلم صاحب نے ۲۳ دسمبر کو ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں شرکت فرمائی اور ۳۱ دسمبر کو مولوی صدیق احمد صاحب منور کی اردو تقریر ریڈیو ماریشس سے نشر ہوئی۔ان کے لئے ریڈیو پر بولنے کا پہلا موقع تھا۔بفضلہ تعالیٰ ان کی تقریر بہت کامیاب رہی۔120