تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 288 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 288

تاریخ احمدیت۔جلد 27 288 سال 1971ء خرید کرا پنا پر لیس قائم کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائی جس پر انگریزی اور ہندی زبان میں قریباً تین چار ہزار پمفلٹ چھاپے گئے۔كينيا کینیا یونائیٹڈ کلب نیروبی کے اونچے طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔پہلے اس کے ممبر صرف انگریز ہی ہو سکتے تھے مگر ۱۲ دسمبر ۱۹۶۳ء کو کینیا نے آزادی حاصل کر لی جس کے بعد اس کے دروازے دوسرے لوگوں کے لئے بھی کھول دیئے گئے گو اب بھی ممبروں کی اکثریت یورپین ہی کی رہی۔۱۷ فروری ۱۹۷۱ء کو اس کلب کی طرف سے کینیا کے امیر ومشنری انچارج مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق کو اسلام میں فرقہ پرستی (Sectarianism in Islam) کے موضوع پر تقریر کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔کلب کی طرف سے اس موقع پر دیئے جانے والے لنچ کے بعد یہ تقریر شروع ہوئی جو کہ نصف گھنٹہ تک جاری رہی۔تقریر کے دوران تین سو کے اجتماع میں مکمل خاموشی اور سکوت کا عالم تھا۔تقریر کے آخری حصہ میں احمدیت کا ذکر تھا۔بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے دعاوی وغیرہ کا تذکرہ بھی شامل تھا نیز خلافت احمدیہ کے بارے میں بھی مختصراً کہا گیا۔تقریر کے اختتام پر دوسروں کو تقریر کے بارے میں کچھ کہنے کا موقع دیا گیا جس پر ایک نے کہا کہ اس تقریر سے ہمیں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئی ہیں۔سامعین میں یہاں کے تمام انگریزی و سواحیلی زبان کے اخباروں اور رسالوں کے مدیر یا نمائندگان شامل تھے۔بعد میں ایک صاحب نے تعدد ازدواج اور حرمت لحم خنزیر کے بارہ میں استفسارات کئے جن کے تسلی بخش جوابات آپ نے دیئے۔سامعین میں ایک بہائی انگریز خاتون بھی تھیں جنہوں نے کہا کہ ”میں نے نہایت غور سے ساری تقریر سنی ہے پر از معلومات ہے اور مجھے بہت پسند آئی ہے۔66 کینیا میں مسجد کا افتتاح کینیا کے مغربی صوبہ میں مارا گولی کے مقام پر جماعت احمدیہ کو ایک مسجد بنانے کی توفیق ملی۔اس کا افتتاح ۱/۲۵ پریل ۱۹۷۱ء کو مکرم جمیل الرحمان صاحب رفیق مشنری انچارج کینیا نے کیا۔۲۰۰ کے قریب غیر مسلم اور ۵۰ کی تعداد میں احمدی احباب حاضر ہوئے۔اس موقعہ پر جماعت کے مختلف مشنوں کے کاموں کی تصاویر کی نمائش بھی کی گئی۔