تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 283 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 283

تاریخ احمدیت۔جلد 27 283 سال 1971ء انہیں شووا (Suva) میں احمد یہ دار التبلیغ میں لے آئے۔بچہ کو ہسپتال میں داخل کرا دیا اور اس کے علاج کے اخراجات کے علاوہ ان کی مہمان نوازی بھی تقریباً ایک ماہ تک کرتے رہے اور جماعتی طور پر دعائیں بھی کی گئیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا اور وہ لوگ جماعت کو اور مولانا صاحب کو دعائیں دیتے ہوئے خوشی خوشی اپنے جزیرہ کو لوٹ گئے۔وقت گزرتا گیا۔۱۹۷۱ء میں اتفاق ایسا ہوا کہ انہیں کے جزیرہ تاو یونی میں اس بیمارلڑکے کی معمر والدہ نے خاکسار اور مولوی محمد صاحب کو اپنے مکان کے قریب سے گذرتے ہوئے دیکھا تو اس نے مجھے مکرم شیخ عبدالواحد صاحب سمجھ کر اپنے گھر بلالیا اور پھر مندرجہ بالا سارا واقعہ سنا کر اصرار کیا کہ ہم ان کے ہاں ٹھہر کر انہیں مہمان نوازی کا موقع دیں اور تبلیغ بھی کریں اور اس طرح اس جزیرہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک نئی جماعت پیدا فرما دی۔98 کرہ ارض کو نصف میں تقسیم کرنے والی ڈیٹ لائن اسی جزیرہ سے گذرتی ہے جہاں دونوں طرف تاریخیں مختلف ہوتی ہیں۔دوسری دنیا کا دن روزانہ سب سے پہلے اسی جزیرہ میں چڑھتا ہے۔اس اعتبار سے یہاں جماعت کا قیام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا کی حقانیت کا ایک زبر دست اور ایمان افروز نشان ہے۔مارچ میں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کی ”بنی نوع انسان کی موجودہ بے راہ روی اور اس کے علاج کے موضوع پر نجی ریڈیو سے ایک فاضلانہ تقریر نر کی گئی جونی کے طول وعرض میں سنی گئی اور پسند کی گئی۔آپ نے جیئن بھائیوں اور بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔,, انگلینڈ کے مسٹر چرچل (Churchill) نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں لکھا تھا کہ اگر نسل انسانی اب زمین پر باعزت طور پر باقی رہنا اور تباہی سے بچنا چاہتی ہے تو اس کا صرف اور صرف یہی طریق ہے کہ ہر طاقتور ملک اپنے آپ کو سب سے بڑا اور طاقتور بنانے کے خواب چھوڑ دے اور اس کے لئے تمام کوششیں، ذرائع اور اپنی خود غرضی اور خود پسندی کے جذبات سے خالی ہو کر ہر دوسرے ملک سے تعاون کرے اور تمام دنیا میں ایک مرکزی فیڈرل گورنمنٹ ورلڈ سپر گورنمنٹ کی صورت میں قائم ہو جائے جس کا ہر ملک تابع ہو مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی دنیوی نہیں بلکہ کوئی بیرونی ( یعنی خدائی ) مضبوط ہاتھ اس گورنمنٹ کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کا بیڑا اٹھائے۔کم و بیش یہی الفاظ امریکہ کے سابق پریذیڈنٹ آئزن ہاور (Eisenhower) نے کہے تھے کہ اب نسل انسانی کے