تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 279
تاریخ احمدیت۔جلد 27 279 سال 1971ء رکھ سکیں۔مگر الہی تصرف کے تحت اسی روز مجاہدین احمدیت شہر میں داخل ہوئے اور تیس افراد پر مشتمل جماعت قائم ہو گئی۔اس شہر میں ایک بت پرست خاندان مشرف بہ اسلام ہوا اور اپنے گھر سے تین بت لایا جس کی پوجا کرتے تھے ان بتوں کو منظر عام پر لا کر آگ میں ڈالا گیا اور موقع کی تصاویر لی گئیں۔نو مبائعین میں اکثر بت پرست ، شراب کے عادی چار سے زائد بیویاں رکھنے والے تھے اور ان میں سے اکثر نیم برہنہ تھے۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے ان کی اس خستہ حالی کو دیکھ کر احباب جماعت کو تحریک کی کہ وہ ان کے لئے لباس مہیا کریں۔دیکھتے ہی دیکھتے تین سو افراد کے لئے لباس اور نقدی جمع ہو گئی۔ایک مقامی مبلغ نے جن کی مشکل سے بسر اوقات ہوتی تھی اپنا لباس اتار کر ضرورت مند کو پہنا دیا۔مولوی بشارت احمد صاحب خود ہر گاؤں میں پہنچے اور اپنی نگرانی میں ملبوسات تقسیم کئے۔ان لوگوں نے کپڑوں وغیرہ کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔اخوت اسلامی کے جذبہ کے تحت ہی یہ تحریک تھی جو ہمدردی خلائق پر منتج ہوئی۔92 اشانی (Ashanti) مغربی افریقہ کی ایک بہادر اور جنگجو قوم ہے جس کی سلطنت ۱۹۹۷ء میں قائم ہوئی جو ۱۸۹۶ء کے بعد برطانیہ کے زیرنگیں ہوئی اور ۱۹۰۱ء میں برطانوی نو آبادیات میں شامل کی گئی اور ۱۹۵۷ء میں غانا کا حصہ بنی۔وسط ۱۹۷۱ ء میں اس قوم کے شاہ اشانی دوم فوت ہو گئے اور ملکی روایات کے مطابق دس جون سے رسومات جنازہ شروع ہو رہی تھیں اس لئے تمام شاہی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔اس ماحول میں جب نئے شاہ اشانٹی کو اطلاع دی گئی کہ جماعت احمد یہ غانا کے امیر وفد لے کر سات جون کو ملنے آرہے ہیں تو انہوں نے اپنے سیکرٹری کو ہدایات دیں کہ جماعت احمدیہ کے وفد کو انکار نہیں کیا جا سکتا چنانچہ مولانا بشارت احمد صاحب بشیر تحریر فرماتے ہیں:۔وقت مقررہ پر وفد لے کر خاکسار شاہ اشانٹی کے ذاتی محل ( منہیا محل Manhyia Palace) پہنچا۔شاہ اشانٹی نے وفد کا خود استقبال کیا۔ایک سادہ مگر پُر وقار تقریب میں ابتدائی تعارف اور تمہید کے بعد خاکسار نے مختصراً قرآن مجید کے فضائل اور سورۃ فاتحہ میں سے اللہ تعالیٰ کی چار امہات الصفات پر روشنی ڈالی جسے انہوں نے ہمہ تن گوش سنا۔قرآن مجید کا تحفہ قبول کرتے ہوئے انہوں نے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ” میرے پاس وقت ہو یا نہ ہولیکن خدا تعالیٰ کے کلام پاک کے مطالعہ کے لئے ضرور وقت نکالوں گا۔موجودہ شاہ اشانٹی ایک قابل بیرسٹر رہ چکے ہیں۔تخت نشینی سے قبل انہیں ڈنمارک کا سفیر بھی