تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 278 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 278

تاریخ احمدیت۔جلد 27 278 سال 1971ء و‘ کیمپ کو اس تبلیغی جہاد میں مرکزی حیثیت حاصل تھی کیونکہ اسی کے ذمہ تمام کیمپوں کی نگرانی و راہنمائی کرنا تھا اور اس ذمہ داری کو اس نے نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا۔چنانچہ مولوی بشارت احمد صاحب بشیر اور مولوی نصیر احمد خان صاحب نے ایک ماہ میں قریباً بارہ سو میل سے زائد سفر کیا۔نصرت تبشیر سکیم کے تحت یہ تبلیغی جہاد ہر اعتبار سے کامیاب رہا اور تبلیغی کیمپوں کے ذریعہ دس نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور ڈیڑھ سو بالغ افراد مع افراد خاندان کے جن کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی داخلِ سلسلہ عالیہ احمد یہ ہوئے۔یہ اعدادو شمار مولوی نصیر احمد خان صاحب کی الفضل میں مطبوعہ رپورٹ سے لئے گئے ہیں اس طرح الفضل میں بھی پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ اسیح کی طرف سے یہ نوٹ شائع ہوا کہ غانا سے مکرم بشارت احمد صاحب بشیر مبلغ انچارج نے یہ خوشکن اطلاع بھجوائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نصرت تبشیر سکیم کے ماتحت غانا میں دس نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔یہ دس نئی جماعتیں ایک ہزار پچاس بالغ افراد پر مشتمل ہیں۔۲۹ مارچ کی شام کو مجاہدین کا قافلہ کماسی پہنچا۔اشانٹی ریجن کی جماعت نے قافلہ کی کامیاب مراجعت پرشاندار دعوتِ طعام کا اہتمام کیا نیز مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے اس بابرکت سکیم کو جاری رکھنے کیلئے نصرت تبشیر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا جس میں مخلصین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مجاہدین احمدیت کا دوسرا قافلہ انہی علاقوں میں ایک ماہ تک مصروف تبلیغ رہا اور اس کی شبانہ روز مساعی کے بھی نہایت شیریں ثمر پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پانچ مزید نئی جماعتیں معرض وجود میں آگئیں جو دو سو بالغ افراد پر مشتمل تھیں (نئے بیعت کنندگان کے اہل وعیال کو شامل کر کے یہ تعداد ایک ہزار سے زائد بن گئی ) مولوی بشارت احمد صاحب بشیر کی رپورٹ کے مطابق احمدی مجاہدین کی سہ ماہی کوششوں سے بفضلہ تعالیٰ قریباً ڈھائی ہزار افراد حلقہ بگوش احمدیت ہوئے اور ۱۶ نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔نومبائعین کی تعلیم و تربیت کے لئے مقامی مبلغین مقرر کر دیئے گئے تا وہ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور اسلام کی تعلیم اور اس کے اصولوں سے پوری طرح واقف کرائیں۔اس علاقہ کے ایک مخلص دوست مسٹر جاویدی جنہیں سات زبانوں پر عبور حاصل تھا کماسی میں بلائے گئے تاوہ دو ایک ماہ کی ٹرینگ کے بعد تربیت یافتہ مقامی مبلغین کے ساتھ مل کرغانا میں فریضہ تبلیغ بجالائیں۔اس تبلیغی جہاد کے دوران کئی ایمان افروز واقعات مشاہدہ میں آئے۔ڈا مونگو کے مقام پر عیسائیوں نے گرجا میں دعائے خاص مانگی کہ اس شہر میں احمدی مبلغین قدم نہ