تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 254 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 254

تاریخ احمدیت۔جلد 27 254 سال 1971ء صاحب اور دیگر احباب بھی نظر آتے رہے۔حج بیت اللہ شریف کا نظارہ اور خلیفہ المسیح الثالث کی دید نے دیکھنے والوں پر مجیب طلسمی اثر کیا۔ناظرین میں سے اکثر کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اس سال جماعت احمدیہ برما نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا خطبہ جمعہ برمی زبان میں سائیکلو سٹائل کر کے دوستوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات نیز اہم جماعتی خبروں کے پہنچانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔70 تنزانیہ تنزانیہ مشن کے انچارج ان دنوں مولانامحمد منور صاحب تھے۔اس سال کے وسط میں آپ نے ایک مفید اور دور رس نتائج کی حامل سکیم جاری فرمائی یعنی چھ ماہ کے مختصر عرصہ کے لئے تنزانیہ بھر کے منتخب احمدی نو جوانوں کو مورو گورو میں تعلیم دی جائے اور ساتھ ہی ان کی عملی تربیت بھی کی جائے تا وہ ملک بھر میں تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے کام کو وسیع کرنے کا باعث ہوں۔اس سکیم کے مطابق ماہ جون کے آخر سے طلباء آنے شروع ہوئے وسط جولائی تک ان کی تعداد ۱۸ تک پہنچ گئی۔۷ را گست ۱۹۷۱ ء کو مولانا محمد منور صاحب نے اس کلاس کا باقاعدہ افتتاح کیا اور درس قرآن مجید میں بڑے مؤثر انداز میں متعدد تربیتی امور بیان فرمائے۔یہ کلاس بہت کامیاب رہی۔ہفتہ میں ایک دن تبلیغ اور فروخت لٹریچر کے لئے ، ایک تقاریر کی مشق کے لئے اور ایک مضمون نویسی کی مشق کے لئے مخصوص تھا۔روزانہ دو وقت قرآن مجید کی تعلیم دی جاتی تھی اور دیگر دینی اسباق بھی جاری رہتے تھے۔ایک بار ایک کیتھولک پادری صاحب تقریر کے لئے مدعو کئے گئے۔انہوں نے پیدائش عالم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریر کے بعد طلبہ نے سوالات کئے۔پادری صاحب نے بعض سوالات کے جوابات میں کہا کہ وہ ان کا کسی اور وقت جواب دیں گے اور آخر میں یہ بھی فرمایا کہ میں جرمنی اور انگلینڈ وغیرہ بھی گھوم آیا ہوں مجھ سے آج تک کسی نے ایسے سوال نہیں پوچھے تھے۔۷ /اگست ۱۹۷۱ء کو یعنی کلاس کے افتتاح ہی کے روز مبلغ تنزانیہ مولوی رشید احمد صاحب سرور کے اعزاز میں پارٹی دی گئی جنہوں نے اپنے مختصر قیام میں بہت عمدہ نمونہ پیش کیا اور قیمتی خدمات انجام دیں۔