تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 16
تاریخ احمدیت۔جلد 27 16 سال 1971ء پچھیں بستروں پر مشتمل ہیں۔دو بستروں کے درمیان کشادہ جگہ رکھی گئی ہے۔آپریشن تھیٹر تین کمروں پر مشتمل ہے۔آپریشن کا کمرہ۱۱ × ۳ فٹ ہے۔الغرض ہر ممکن سہولت خدا کے فضل سے مہیا ہے۔غانا کے علاوہ آئیوری کوسٹ، بورکینا فاسو، ٹوگو، بین ، نائیجیریا، نائیجر ، زائر ، کیمرون ،لائبیریا، سینیگال، گنی، ماریطانی، مالی اور گیمبیا کے مریض بھی علاج کیلئے آتے ہیں۔اس وقت ڈاکٹر طارق احمد صاحب انچارج ہیں جو کہ انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔22 اس ہسپتال میں بھی اللہ تعالیٰ نے کس طرح احمدی ڈاکٹروں کو شفا یابی کے اعجاز کی نشان سے نوازا اس کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔ڈاکٹر میجر (ر) لئیق احمد فرخ صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں تحریر کیا کہ:۔لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ہسپتالوں پر بہت اعتماد ہے اور وہ ہمارے ہسپتالوں میں علاج کرانے اور داخل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔چند روز ہوئے ایک مریض آیا جس کا ہر نیا Strangulate( ہرنیا میں خون کی گردش کا بند ہونا) ہو گیا تھا اور بیماری پر بہت وقت گذر چکا تھا۔جب ایسی حالت ہو تو عموماً آنت کا وہ حصہ جو Strangulate ہو جاتا ہے کاٹنا پڑتا ہے اور جس Suturing Material سے آنت کو دوبارہ سیا جاتا ہے وہ یہاں پر دستیاب نہیں۔ان حالات میں میں نے مریض کو اور اس کے رشتہ داروں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں چلے جائیں اور ساتھ ہی میں نے انہیں وجہ بھی بتادی۔رشتہ داروں نے جانے کی حامی بھر لی اور مریض کو معائنے والے کمرے سے باہر لے گئے۔مگر تھوڑی دیر بعد ہی مریض کے رشتہ دار پھر آئے اور کہنے لگے کہ مریض وہاں جانے پر راضی نہیں۔وہ کہتا ہے کہ اس کا یہاں پر ہی آپریشن کیا جائے۔میں نے مریض کے رشتہ داروں کو کہا کہ وہ اسے سمجھا ئیں۔وہ پھر گئے اور آ کر کہا کہ مریض کہتا ہے کہ میں مرجانا پسند کروں گا لیکن اگر آپریشن کرواؤں گا تو یہاں پر ہی کرواؤں گا۔بحالت مجبوری میں نے تمام بات مریض کے رشتہ داروں کو بتا دی اور اچھی طرح سمجھا دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! تو ہی بہتر جانتا ہے تو شفا دینے والا ہے میں تیرا نام لے کر آپریشن کرتا ہوں ، ہماری مدد کر اور اس مریض پر اپنا فضل اور رحم کر۔چنانچہ اس کا آپریشن کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ آپریشن اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہا اور مریض چند دنوں میں ہی ٹھیک ہوکر شکریہ ادا کر تا واپس چلا گیا۔23