تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 247 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 247

تاریخ احمدیت۔جلد 27 247 سال 1971ء کیا کہ اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔ازاں بعد چوہدری عبدالرحمن خان صاحب نے اختصار کے ساتھ گذشتہ سال کی مالی اور تبلیغی مساعی کا تذکرہ کیا اور احباب کو مزید قربانیوں کے لئے تیار رہنے کی ترغیب دی۔61 انڈونیشیا حافظ قدرت اللہ صاحب یکم تا ۱۵ مارچ ۱۹۷۱ ء کے دوران سنگلانگ (Sanglang) تشریف لے گئے جہاں پہلے صرف تین احمدی افراد تھے مگر اب ان کے پہنچنے پر ایک ہی فیملی کے سات افراد نے احمدیت قبول کی۔یہاں آپ نے ایک تقریب میں ۳۵-۴۰ کے قریب غیر از جماعت افراد تک پیغام احمدیت پہنچایا۔اس سے پہلے بھی آپ کو اس جگہ یورپ کی تبلیغی سلائیڈ ز دکھانے اور لیکچر دینے کا موقع مل چکا تھا۔سلائیڈز کے ذریعہ احمدیت سے متعارف کرانے کا یہ طریق ہر جگہ بہت مفید اور دلچسپ ثابت ہوا۔امارچ کو محمدیہ تنظیم کے تحت آپ نے ایک کامیاب لیکچر دیا جس میں دوسو سے زائد طلباء موجود تھے۔بعد میں سوال و جواب بھی ہوئے۔62 ۱۹۷۱ء کی جماعتی مجلس شوری آخر اپریل میں مغربی جاوا کی مشہور بندرگاہ چر بون میں منعقد ہوئی۔گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی اگست ۱۹۷۱ء میں پہلے مجلس خدام الاحمدیہ انڈونیشیا کا اجتماع ہوا۔پھر جماعت احمدیہ انڈونیشیا کا سالانہ جلسہ انعقاد پذیر ہوا۔خدام الاحمدیہ کا اجتماع ۲۳ - ۲۴ - ۲۵/اگست کو تا سک ملا یا شہر سے تین میل دور ایک پرفضا مقام پر تھا۔اجتماع میں علاقہ کے مبلغین نے حصہ لیا اور تقاریر کیں اور درس دیا۔حکومت کے ایک نمائندہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور علاقہ کی بعض ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر خدام کی سالانہ میٹنگ ہوئی اور پہلی بار تقریری مقابلہ کرایا گیا۔جماعت کا سالانہ جلسہ ۲۶-۲۷۔۲۸ /اگست کو تا سک ملایا میں منعقد ہوا جس میں انڈونیشیا کے طول و عرض سے دو ہزار کے قریب مخلص احمدیوں نے شمولیت فرمائی۔جا کرتا اور بنڈ ونگ پریس میں اس جلسہ کی خبریں شائع ہوئیں اور ریڈیو سے اس کا بار بار اعلان نشر ہوا۔ہینڈ بل تقسیم کے علاوہ موزوں مقامات پر پوسٹر بھی آویزاں کئے گئے۔جلسہ کے کل پانچ اجلاس ہوئے۔مولانا محمد صدیق صاحب نے افتتاحی خطاب میں سب سے پہلے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا روح پرور دعائیہ پیغام پڑھ کر سنایا اور احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔جلسہ کے دیگر مقررین میں